ہِنگل گنج، گوسابہ، کُلٹی، پاتھر پرتیما اور بسنتی بلاک کے جنگلوں میں موجود شیر گاؤں والوں کے لیے خطرہ ہیں، جو اپنی روزمرہ کی ضرورتوں اور معاش کے لیے جنگلوں پر منحصر ہیں۔ یہ بلاک سندر بن قومی پارک (اور شیروں کے لیے محفوظ علاقہ) کے قریب ہے، جس میں تقریباً ۱۷۰۰ مربع کلومیٹر کا کور علاقہ اور تقریباً ۹۰۰ مربع کلومیٹر کا بفر علاقہ شامل ہے، جہاں معاش سے متعلق کچھ سرگرمیوں کی اجازت ہے۔ عام طور پر، گاؤوں کے مرد یہاں کے جنگلوں میں مچھلی اور کیکڑا پکڑنے، یا پھر شہد اور لکڑی اکٹھا کرنے کے لیے گھومتے رہتے ہیں۔ شیر کے ساتھ لڑائی میں، اکثر آدمی ہی مرتے ہیں۔
سندر بن میں اس طرح بیوہ ہونے والی عورتوں کی صحیح تعداد کیا ہے، نہیں معلوم۔ لیکن مقامی لوگوں، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد تین دہائیوں میں کم از کم ۳۰۰۰ ہے – یا ایک سال میں تقریباً ۱۰۰ ہے۔
’’گوسابہ کے لاہری پور گرام پنچایت علاقہ [جس میں کل ۲۲ گاؤوں ہیں] میں ۲۰۱۱ سے اب تک، تقریباً ۲۵۰ خواتین کے شوہر شیر کے حملے میں مارے گئے ہیں، لیکن ان میں سے ایک کو بھی معاوضہ نہیں ملا ہے،‘‘ ارجن مونڈل بتاتے ہیں، جو سندر بن دیہی ترقیاتی سوسائٹی چلاتے ہیں، یہ ایک این جی او ہے جو شیر کے سبب بیوہ ہونے والی خواتین کی فلاح کے لیے کام کرتی ہے۔
یہ عورتیں مغربی بنگال حکومت کے محکمہ جنگلات، محکمہ ماہی پروری اور ریاست کی گروپ پرسنل ایکسیڈنٹ انشورینس اسکیم، تینوں ہی سے کل ملا کر تقریباً ۴-۵ لاکھ روپے کے معاوضے کی حقدار ہیں۔ حالانکہ، اس کے لیے کئی شرطیں ہیں؛ ارجن ان میں سے کچھ کے بارے میں یوں بتاتے ہیں: ’’شوہر کی موت کور علاقہ میں نہیں ہونی چاہیے، اس کے پاس کشتی کا لائسنس سرٹیفکیٹ (بی ایل سی) اور محکمہ جنگلات کا پرمٹ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، معاوضہ پانے کے لیے شوہر کو مختلف محکموں میں کئی دستاویز بھی جمع کرانے پڑتے ہیں۔‘‘
گاؤوں کے لوگ ہمیشہ کور علاقہ میں گھومتے رہتے ہیں۔ ارجن خود ایک مچھوارے ہیں، وہ کہتے ہیں، ’’ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ بفر ژون کہاں ختم ہو رہا ہے اور کہاں سے کور علاقہ شروع ہوتا ہے۔ سرکار بہت کم بی ایل سی جاری کرتی ہے، اور ہر کوئی اتنا خرچ بھی نہیں کر سکتا۔ پرمٹ جاری کرنا بھی محکمہ جنگلات کی خواہش پر منحصر ہے۔‘‘
اس لیے، اُن مردوں کی بیویاں پریشانیوں میں گھر جاتی ہیں جن کے پاس بی ایل سی یا پرمٹ نہیں ہوتا۔ صورتحال تب اور بھی خراب ہو جاتی ہے جب مردوں کی موت کور علاقہ میں ہو جائے، جہاں گاؤوں والوں کو داخلہ کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے، چاہے ان کے پاس پرمٹ ہو یا نہ ہو۔
جیسا کہ گوسابہ بلاک کے پاتھر پاڑہ گاؤں کی ۴۰ سالہ نمیتا بشواس کے ساتھ ہوا۔ فروری ۲۰۱۵ میں، ایک شیر نے ان کے شوہر، منورنجن پر کور علاقہ میں حملہ کر دیا۔ اس حملے میں وہ بچ گئے تھے، جس کے بعد انھیں ایک اسپتال میں بھرتی کرایا گیا۔ لیکن، اسپتال سے چھٹی ملنے کے کچھ دنوں بعد ہی ان کی موت ہو گئی۔ نمیتا بتاتی ہیں، ’’ان کے سر کے زخم سے انفیکشن ٹھیک نہیں ہوا تھا۔ میرے شوہر کے پاس بی ایل سی تھا، لیکن پولس نے میرا بیان لینے سے منع کر دیا۔ ہم نے محکمہ جنگلات کو معاوضہ کے لیے اپنے سبھی دستاویز اور میڈیکل بل دیے۔ پیسہ آنا ابھی باقی ہے۔ میری جیسی بہت سی بیوائیں ہیں۔ سرکار کو کم از کم ہمیں ماہانہ پنشن دینا چاہیے۔‘‘