کھیت کے بیچ میں اینٹ اور سیمنٹ سے بنے پانچ بائی دس فیٹ کے چبوترے پر لکھا ہے: ’چیتن داداراؤ کھوبراگڑے۔ پیدائش: 1995/8/8۔ موت: 18/5/13‘۔ ان کے والدین نے اس اسمارک کی تعمیر اس جگہ پر کی ہے، جہاں ان کے بیٹے کو شیر نے ہلاک کر دیا تھا۔
چیتن (۲۳) اپنی بڑی بہن پایل کی شادی کا انتظار کر رہے تھے، پھر خود اپنی شادی کرنا چاہتے تھے۔ ’’ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں ایک شیر ہے،‘‘ ۲۵ سالہ پایل کہتی ہیں۔ ’’ہم خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ ایک شیر کے ذریعے مارا جائے گا، وہ بھی ہمارے اپنے ہی کھیت پر۔‘‘
مئی کی گرمی میں اُس دن شام کے ۶ بجے تھے۔ چیتن اپنی گایوں کے لیے سبز چارہ لانے آمگاؤں میں اپنے کھیت پر گئے تھے۔ شام کے ۷ بجے تک جب وہ گھر نہیں لوٹے، تو ان کے سب سے چھوٹے بھائی ساحل (۱۷) اور چچیرے بھائی وجے انھیں ڈھونڈنے نکلے۔ انھوں نے چیتن کا ہنسیا زمین پر پڑا دیکھا۔ فیملی کا پانچ ایکڑ کھیت ان کے گھر سے سڑک پار کرکے، مشکل سے ۵۰۰ میٹر کی دوری پر ہے، جس کے آگے صنوبر اور بانس کے خشک اور پت جھڑ جنگل ہیں۔
دونوں چیخے، ’’واگھ، واگھ [شیر، شیر]‘‘، اور دوسروں کو مدد کے لیے پکارنے لگے۔ کچھ ہی دوری پر، سبز کڈیالو چارے کے درمیان چیتن کی مسخ شدہ لاش پڑی تھی۔ وہ اس شیر کے ذریعے مار دیے گئے تھے، جس کے بارے میں پورا گاؤں جانتا تھا کہ وہ آس پاس کے علاقے میں ہی ہے۔
’’ہم نے شیر کو جنگل میں جاتے ہوئے دیکھا تھا،‘‘ وجے کھیت سے سٹے جنگلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ وہ پوری طرح بڑا ہو چکا شیر تھا جو شاید بھوکا اور پیاسا تھا، وہ یاد کرتے ہیں۔
عوامی زمین کا سکڑنا
اس چھوٹی سی برادری کے سیاسی اور سماجی کاموں کی قیادت کرنے والے ایک نوجوان کی موت نے آمگاؤں (مقامی لوگ اسے آمگاؤں جنگلی کہتے ہیں) کو ایک خوفناک اور سیاہ خاموشی میں مبتلا کر دیا۔ بارش ہونے پر بھی کھیت بنجر ہی رہے، کیوں کہ لوگ کھیتوں میں جانے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہے تھے۔
وردھا ضلع کے سیلو تعلقہ کا گاؤں، بور ٹائیگر ریزرو کے بفر ژون میں واقع ہے۔ بفر میں، وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے تحت، چراگاہ یا عوامی زمین کے استعمال، تعمیر اور جانوروں کے چرانے پر پابندی ہے۔ یہ محفوظ جنگلات کے کور ایریا جہاں انسانی داخلہ کو محکمہ جنگلات کے ذریعے ریگولرائز کیا جاتا ہے، اور مقامی جنگلات یا بفر سے باہر کے علاقوں کے درمیان کا ایک علاقہ ہے جن میں گاؤں موجود ہیں۔
بور ریزرو، ملک کے جدید اور سب سے چھوٹے ریزرو میں سے ایک ہے جو ناگپور سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسے جولائی ۲۰۱۴ میں ٹائیگر ریزرو بنایا گیا، جو صرف ۱۳۸ مربع کلومیٹر کے علاقے کو کور کرتا ہے۔












