’’افزائش کے موسم میں بھیڑیے خطرہ [ہماری موجودگی] کے باوجود ہمارے مویشیوں پر حملہ کرتے ہیں، کیوں کہ انہیں اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے،‘‘ گیا گاؤں کے گلہ بان، تاشی فونسوگ اور تنڈپ چوسگیل بتاتے ہیں۔ بھیڑیوں کے بارے میں ان کا یہ نظریہ جنگلی شکاریوں کی ان کی سمجھ کو بیان کرتا ہے جن کے ساتھ گلہ بان برادریاں اپنے علاقے کا اشتراک کرتی ہیں۔ لیکن اکثر انہیں اس کی قیمت مالی زیاں اور ذہنی تناؤ کی شکل میں چکانی پڑتی ہے، جب ان کے واحد ذریعہ معاش یعنی مویشیوں کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اپنے مویشیوں کی حفاظت کرنے اور گوشت خور جانوروں کی تعداد کم کرنے کے لیے، یہ برادریاں روایتی ڈھانچوں کا استعمال کرتی ہیں، جنہیں شانگ ڈونگ کہتے ہیں۔ تاشی فونسوگ اور تنڈپ چوسگیل کہتے ہیں، ’’میں اپنے بچپن سے اس رواج کو دیکھ رہا ہوں۔ اکتوبر کے مہینے میں، گاؤوں والوں کے لیے یہ ضروری ہوا کرتا تھا کہ وہ یکے بعد دیگرے اپنے ریوڑ سے ایک بھیڑ کو [چارہ کے طور پر] شانگ ڈونگ کے اندر رکھیں۔ گاؤں کے فریضہ کے طور پر، ہر کوئی ایک ایک کرکے بھیڑ یا بکری کو جنوری تک کھانا کھلاتا تھا۔ اگر ان کے پاس کوئی جانور نہیں ہوتا تھا، تب بھی کچھ گھاس اور پانی کا ڈبہ روزانہ پہنچانا پڑتا تھا۔ اگر کوئی بھیڑیا پھنس گیا، تو چارہ کھلانے کی ڈیوٹی پر مامور شخص کو اسے مارنا پڑتا تھا۔‘‘
یہاں پیش کی جا رہی دستاویزی فلم، شانگ ڈونگ سے استوپا تک، میں لداخ کی گلہ بان برادریوں کی آوازیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس فلم کی شوٹنگ نوجوان لداخی فلم سازوں- سمتین گیومیت اور فونسوک آنگ چُک پاچُک کے ذریعے ۲۰۱۹ کی گرمیوں میں کی گئی تھی۔ لداخی زبان میں اس کا وائس اوور چھیرنگ ڈولما کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یہ فلم ایک پرانی روایت اور گلہ بان برادری کی زندگی میں پیش آنے والے مشکل حالات کی کہانی بیان کرتی ہے، جسے اکثر غلط سمجھا گیا ہے۔
اس کمیونٹی اور شکاری جانوروں کے درمیان تصادم کو کم کرنے اور گلہ بانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے حکومت اور برادری پر مبنی تنظیمیں پروگرام ترتیب دے رہی ہیں۔ یہ، اور کمیونٹی کا تحمل و ہمدردی کا فلسفہ تحفظ کا انوکھا حل تلاش کرنے کے لیے سازگار ماحول تیار کر رہا ہے۔


