سِٹّی لِنگی وادی کے کچھ نوجوان آدیواسی مردوں کے لیے یہ اسکول واپس آنے جیسا ہے۔ اس بار حالانکہ یہ تعلیم کے لیے نہیں، بلکہ تولیر اسکول کے نئے کیمپس کی تعمیر کرنے کے لیے ہے۔
اُن میں سے ایک ۲۹ سالہ الیکٹریشین اے پیرومل بھی ہیں، جو ایک صبح کو وہاں تار اور پائپ کی فٹنگ کر رہے تھے۔ ’’زمینی سطح کے چھوٹے وینٹی لیٹر کو دیکھا آپ نے؟ اس سے، سب سے چھوٹے بچوں کو بھی تازہ ہوا مل سکتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ پیرومل سٹی لنگی وادی میں ٹی وی اور پنکھے ٹھیک کرنے کے اپنے مصروف ترین کام کو چھوڑ کر اس کنسٹرکشن سائٹ پر کام کرنے کے لیے آئے ہیں۔
پاس میں، ۲۴ سالہ ایم جے بل ہیں، جو ٹھوس مٹی کی اینٹوں کے استعمال سے آشنا ایک مقبول راج مستری ہیں۔ وہ مٹی کے آکسائڈ میں ڈیزائن والے ستونوں کو شکل دے رہے ہیں، حالانکہ انھوں نے وادی کے اپنے سرکاری اسکول میں کبھی آرٹ پیپر اور کریان نہیں پکڑا۔ وہ اسکول کی اس نئی عمارت میں، دسمبر ۲۰۱۶ میں اس کا پہلا پتھر رکھے جانے کے وقت سے ہی بڑھئی کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انھیں اور دیگر کو یہاں آٹھ گھنٹے کام کرنے کے ۵۰۰ روپے ملتے ہیں، اور جب بھی ضرورت ہوتی ہے وہ آ جاتے ہیں۔
عمارت کی میکانکس میں ان کا پہلا سبق، تولیر کے اسکول کے بعد والے نصاب میں، ۲۰۰۴ میں شروع ہوا۔ یہاں، جے بل اور سٹی لنگی کے مقامی سرکاری اسکول کی پرائمری اور مڈل سطح کی کلاسوں کے دیگر طالب علم خود کے تجربات سے سائنس کی دریافت کرتے، ڈرائنگ کے ذریعہ آرٹ بناتے، اور کتابوں سے زبان سیکھتے۔









