اکتوبر کے وسط کی دوپہر میں، سورج کی شعائیں بھلے ہی ہمیفانگ، میزورم میں بادل سے ڈھکے پہاڑوں کے اوپر سے چھن کر آ رہی ہوں، لیکن سدا بہار سرسبز درختوں کے گھنے جنگلوں میں ہمیشہ سردی اور اندھیرا رہتا ہے۔ پورے جنگل میں مکمل خاموشی ہے، یہاں صرف ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے اور وہ ہے پرندوں کی آواز یا پھر لکڑیاں جمع کرنے والی خاتون کی ٹھک ٹھک کی آواز۔
وہ جھکی ہوئی ہے، اپنے کام میں پوری طرح مصروف، جلانے والی لکڑیوں کا ایک گٹھر پہلے سے ہی اس کے آس پاس لائن سے رکھا ہوا ہے۔ لال زوئلیانی، یا زوئلیانی جو کہ ان کو پکارنے والا نام ہے، ۶۵ سال کی ہیں، پاس کے اپنے ہمیفانگ گاؤں میں واقع اپنے گھر کے لیے لکڑیاں جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے پاؤں کے قریب موگری ہے۔ اس کا پتلا اور بھاری بلیڈ آخری سرے پر لکڑی کے دستے سے کسا ہوا ہے، تاکہ اسے استعمال کرنے میں آسانی ہو۔ اس کی مدد سے انھوں نے بٹلانگ کین درخت (کروٹن لِسو فائلس) کی لکڑی کو آسانی سے ۳ یا ساڑھے فٹ کے ٹکڑوں میں کاٹ رکھا ہے۔ جمع کی گئی لکڑی، جو ابھی پوری طرح سے خشک نہیں ہے، تقریباً ۳۰ کلوگرام وزن کی ہے۔
ایسے میں جب کہ وہ ان لکڑیوں کو گھر لے جانے کے لیے تیار کر رہی ہیں، ان کے ہاتھ میں موجود داؤ (خنجر) تیز اور اثردار طریقے سے حرکت کر رہا ہے، جسے وہ بڑی آسانی سے ادھر ادھر گھما رہی ہیں، یہ کئی برسوں کی روزانہ کی ورزش کا نتیجہ ہے۔










