چنئی میں منعقد ریاست تمل ناڈو کی یومِ جمہوریہ تقریبات میں رانی ویلو نچیار اُن مشہور تاریخی شخصیات میں سے ایک تھیں، جن پر باتیں بھی خوب ہوئیں اور جن کی کافی تصویریں کھینچی گئیں۔ انہیں وی او چدمبرم پلئی، سبرامنیم بھارتی، اور مروتھو بندھو جیسی تمل شخصیات کے ساتھ ایک جھانکی (نمائش) میں دیکھا گیا۔
’جدوجہد آزادی میں تمل ناڈو‘ کی ترجمانی کرنے والی اُس جھانکی کو مرکزی حکومت کے ’ماہرین‘ کی کمیٹی کے ذریعے نئی دہلی میں منعقد ہونے والی یومِ جمہوریہ پریڈ میں شامل کرنے سے منع کر دیا گیا تھا۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے وزیر اعظم سے وزیر اعظم سے مداخلت کرنے کی اپیل بھی کی، لیکن اس پر غور نہیں کیا گیا۔ آخرکار، اسے چنئی میں ریاست کی طرف سے منعقد ہونے والی یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں جگہ دی گئی، جو سب سے زیادہ مقبول رہی۔
مرکز کے ’ماہرین‘ کی کمیٹی کے ذریعے دیے گئے دیگر اسباب کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی پیش کی گئی کہ ان شخصیات کو ’قومی سطح پر کوئی نہیں جانتا‘۔ اکشیہ کرشن مورتی اس سے متفق نہیں ہیں۔ وہ مانتی ہیں کہ ان کا ’ویلو نچیار‘ کے ساتھ ذاتی طور پر گہرا رشتہ ہے، جنہوں نے انگریزوں سے لڑائی لڑی اور ۱۷۹۶ میں اپنی موت تک شیو گنگا (اب تمل ناڈو کا ایک ضلع) پر حکومت کی تھی۔
وہ کہتی ہیں، ’’میری زندگی کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا، جب میں نے ۱۱ویں کلاس میں اپنے اسکول کے ایک پروگرام میں ویلو نچیار کا کردار ادا کیا تھا۔‘‘
اکشیہ مزید کہتی ہیں، ’’لیکن، یہ صرف اداکاری اور رقص سے جڑی بات نہیں تھی۔‘‘ انہوں نے اپنے اندر ’ویر منگئی‘ کی طاقت اور ہمت کو محسوس کیا۔ رانی ویلو نچیار کو گیتوں اور اقوال میں ویر منگئی کے نام سے پکارا جاتا رہا ہے۔ اکشیہ ایک تربیت یافتہ کلاسیکی رقاصہ ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسکول کے اس مقابلہ کے دن ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ یہ اداکاری کر بھی پائیں گی یا نہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی پوری طاقت لگا دی۔
اسٹیج سے اترنے کے بعد، وہ بیہوش ہو گئیں۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا، اور وہاں انہیں سلائن ڈرِپ چڑھایا گیا۔ ’’ہم دوسرے مقام پر رہے۔ اپنے آئی وی لائن (ڈرپ کی سوئی) والے ہاتھوں سے میں نے اپنا انعام لیا۔‘‘ اس واقعہ نے انہیں اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا سکھایا۔ ان کے اندر ’’ہمت‘‘ نے جنم لیا، اور اس کے بعد انہوں نے موٹر سائیکل اور کار چلانا سیکھا۔












