سراج مومن ایک بھی غلطی کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ غلطی کرنے کا مطلب ہے ۲۸ روپے فی میٹر کپڑے کے حساب سے اپنا نقصان کرنا۔ ان کے لیے تانے بانے کے دھاگوں کی تعداد کا دھیان رکھنا ضروری ہے۔ اس لیے وہ وقتاً فوقتاً میگنی فائنگ گلاس سے بُنائی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ اور چھ گھنٹے کی کل مدت میں ہتھ کرگھے کے دونوں پیڈل کو ۹۰ دفعہ فی منٹ کی رفتار سے چلاتے ہیں – یعنی دن میں ۳۲۴۰۰ بار۔ ان کے پیروں کی چال ۳۵۰۰ تاروں والے فریم یا ہیڈلز (یہ تعداد الگ الگ مشینوں میں مختلف ہوتی ہے) والے ہارنیس کو کھولتی بند کرتی ہے۔ دھات کی ڈنڈی پر بندھا تانے کا دھاگہ ان کے پیروں کی تیز چال پر ان تاروں کے بیچ سے گزرتا ہے۔ اس کمال سے جو کپڑا نکلتا ہے اس میں فی انچ ۸۰ تانے اور ۸۰ بانے کے دھاگے ہوتے ہیں۔
سراج، جو اب ۷۲ سال کے ہو چکے ہیں، آدھی صدی سے بھی زیادہ وقت سے یہ کام کر رہے ہیں جب وہ ۱۵ سال کے تھے۔ حالانکہ ان کا ہتھ کرگھا ان کی عمر سے تقریباً دو گنا پرانا ہے، جو سو سال پرانی ساگوان کی لکڑی سے بنایا گیا تھا اور انہیں وراثت میں ملا تھا۔ سراج اس کے اوپر ۵۷ برسوں سے کپڑے کی بُنائی کر رہے ہیں – ہتھ کرگھے کو ان کے جیسے ایک ماہر بُنکر کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک ساتھ دھاگے کو سلجھا سکے، ہاتھ پیر کی چال میں توازن پیدا کر سکتے، اور اس بات کو یقینی بنا سکے کہ کپڑے میں تانے (عمودی) اور بانے (اُریب) کے دھاگوں کی ضروری تعداد موجود ہے۔
سراج کے گھر میں اب صرف دو ہتھ کرگھے بچے ہیں، دونوں میں سے ہر ایک تقریباً ساتھ فٹ اونچے ہیں۔ کسی زمانے میں ان کے پاس ایسے سات کرگھے تھے، جن میں سے کچھ کو چلانے کے لیے وہ مزدوروں کو بھی کام پر رکھتے تھے۔ ’’۱۹۸۰ کی دہائی کے آخر تک بہت کام تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ تین دہائی قبل انہوں نے دیگر گاؤوں میں خریداروں کو ۱۰۰۰ روپے فی کرگھا کے حساب سے تین کرگھے بیچے تھے، اور کچھ دنوں بعد کولہاپور شہر کی ایک غیر سرکاری تنظیم کو دو کرگھے عطیہ کر دیے تھے۔
کولہاپور ضلع کے ہٹ کننگلے تعلقہ میں ۱۹۶۷۴ لوگوں کی آبادی والے (مردم شماری ۲۰۱۱ کے مطابق) اپنے گاؤں رینڈال میں تین نسلوں سے سراج کی فیملی ہتھ کرگھے پر کپڑے کی کتائی کر رہی ہے۔ سال ۱۹۶۲ کے قریب ۸ویں کلاس پاس کرنے کے بعد، سراج نے بھی اپنی پھوپھی (والد کی بہن) حلیمہ سے بُنائی کرنے کا ہنر سیکھا۔ وہ رینڈال کی کچھ خواتین بُنکروں میں سے ایک تھیں۔ گاؤں کی زیادہ تر خواتین ہاتھ سے دھاگے کی کتائی کرتی تھیں، جسے بانے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا – یہی کام کئی سالوں بعد سراج کی بیوی، میمونہ نے بھی کیا۔















