ریتا اَکّا کا ہر ایک کام اُس چیز کو ظاہر کرتا ہے، جو زندگی ہمیں سکھانے کی کوشش کرتی ہے – کہ اس کا ایک مقصد ہے۔ گویائی اور سماعت سے معذور اور صفائی کا کام کرنے والی وہ ایک بیوہ ہیں۔ ان کی ۱۷ سال کی بیٹی اپنی دادی کے ساتھ رہنے کے لیے گھر چھوڑ کر جا چکی ہے۔ اس ۴۲ سالہ خاتون کی تنہائی ان کی زندگی سے بڑی ہے، لیکن اس کے سامنے انہوں نے خود سپردگی نہیں کی ہے۔
ریتا اَکّا (بڑی بہن) – جیسا کہ وہ اپنے پڑوس میں جانی جاتی ہیں (حالانکہ کچھ لوگ انہیں اوماچی کہتے ہیں، جو گونگے کے لیے بے عزتی بھرا لفظ ہے) – ہر صبح بیدار ہونے کے بعد چنئی میونسپل کارپوریشن کے لیے محنت سے اپنے کچرا اٹھانے کے کام پر نکل جاتی ہیں۔ حالانکہ کبھی کبھی، مشقت بھرے دن کے آخر میں جسم میں درد کی شکایت کرتی ہیں۔ کچرا لے جانے کے لیے وہ جس سائیکل رکشہ ٹرالی کا استعمال کرتی ہیں، اس کے کناروں کو دیکھ کر آپ ان کے عزم کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ریتا نے اس کے اوپر الگ الگ رنگوں میں اپنا نام تین بار لکھوا رکھا ہے۔ دن کے آخر میں، وہ شہر کے کوٹّور پورم علاقے میں واقع ہاؤسنگ بورڈ کوارٹر کے اپنے چھوٹے، تنہا گھر میں واپس چلی جاتی ہیں۔




























