مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر پھڑنویس نے جب ۶ جون کو کسانوں کی قرض معافی کا وعدہ کیا، تو انھوں نے میڈیا سے کہا کہ یہ ’’تاریخ میں سب سے بڑی ہوگی۔‘‘ لیکن جو چیز سب سے بڑی ثابت ہوئی، وہ اس ’معافی‘ کے لیے شرائط کی تعداد تھی۔
اس لیے بپا صاحب اِرکال، جو اورنگ آباد ضلع کے پارُنڈی گاؤں میں کچھ راحت ملنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے، انھوں نے جب ان متعدد شرائط کے بارے میں سنا تو انھیں سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ہنسیں یا روئیں۔ ’’(قرض معافی کی) اوپری حد ڈیڑھ لاکھ روپے ہے،‘‘ اپنی بیوی رادھا اور والد بھانو داس کے ساتھ اپنے ۱۶ ایکڑ کھیت میں نرائی کرتے ہوئے، ۴۱ سالہ کسان کہتے ہیں۔ ’’میں نے ۹ لاکھ کا قرض لے رکھا ہے۔ اگر میں اس میں سے ساڑھے سات لاکھ ادا کردوں، صرف تبھی مجھے ڈیڑھ لاکھ روپے کا فائدہ ملے گا۔‘‘
رادھا کہتی ہیں کہ بینک سے لیا گیا ان کا قرض ۲۰۱۲ سے لے کر ۲۰۱۵ کے درمیان جمع ہو گیا، کیوں کہ وہ قحط کے سال تھے، جب ان کی فصلیں لگاتار ناکام رہیں۔ سال ۲۰۱۴ میں اس فیملی نے پاس کی ایک جھیل سے اپنے ذریعے کھودے گئے بورویل کو جوڑنے کے لیے چار کلومیٹر لمبی پائپ لائن بنائی۔ ’’لیکن بارش اس بار بھی ٹھیک سے نہیں ہوئی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ تور اور کپاس پوری طرح سوکھ گئے۔ جب پھڑنویس نے کہا کہ وہ ضرورت مند کسانوں کے قرض معاف کریں گے، تو اس سے ہماری امید بندھی تھی۔ لیکن اس نے ہمارا مذاق اڑایا۔ اگر ہمارے پاس ادا کرنے کے لیے پیسے ہوتے، تو کیا ہم اپنے سر پر قرض پہلے ہی اٹھا رہے ہوتے؟‘‘




