اچھا، تو میری توجہ اس طرف نہیں گئی تھی۔ اس کے لیے میں ’پاری‘ کے قارئین اور ناظرین سے معافی چاہتا ہوں۔ پاری کے سبھی فالوورز ہمارے اس ٹاپ چارٹ بسٹر – ’پوٹیٹو سانگ‘ سے بخوبی واقف ہیں۔ اس گیت کو ۸ سے ۱۱ سال کی عمر کی پانچ لڑکیوں کے ایک گروپ نے گایا ہے۔ یہ لڑکیاں کیرالہ کی دور افتادہ پہاڑیوں میں آباد واحد پنچایت، ایڈمالا کوڈی کے ٹرائبل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے ایک چھوٹے سے اسکول کی پہلی سے لے کر چوتھی کلاسوں میں پڑھتی ہیں۔
وہاں پہنچنے والے ہم آٹھوں لوگوں نے ان طالبات سے پوچھا تھا کہ ان کا پسندیدہ مضمون کون سا ہے۔ ان کا جواب تھا – ’’انگریزی‘‘۔ ایک ایسے علاقے میں، جہاں ہم نے کسی سائن بورڈ تک پر انگریزی میں لکھا ایک بھی لفظ نہیں دیکھا تھا، وہاں ان کا یہ جواب سننا ایک چونکانے والا واقعہ تھا۔ وہ انگریزی سمجھتی ہیں، اس بات کو ثابت کرنے کا چیلنج قبول کرتے ہوئے وہ قہقہہ لگاتے ہوئے گیت گانے لگتی ہیں۔
بعد میں یہ پاری کا سب سے پسندیدہ گیت بن گیا۔ لیکن کوئی اور بھی ایک چیز تھی جسے ہم اس وقت بھول گئے تھے، اور اسے اب آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ جب لڑکیوں نے ’پوٹیٹو سانگ‘ کو پوری درستگی کے ساتھ پیش کر دیا، تو ہم نے لڑکوں کا ہنر بھی آزمانے کی کوشش کی۔ ہم نے غور کیا، جب ہم نے ان کی انگریزی کی معلومات کو پرکھنے کی کوشش کی، تو وہ شرطیہ اپنی کلاس میں لڑکیوں سے پیچھے چھوٹ گئے۔
ان کو معلوم تھا کہ ان پانچ لڑکیوں کی خوبصورت پیشکش کو مات دے پانا ان کے لیے مشکل کام ہے، لہٰذا انہوں نے اسے ایک کھیل میں تبدیل کردیا۔ سُر کی خوبی یا گیت کی پیشکش کے معاملے میں وہ لڑکیوں کے مقابلے کہیں نہیں ٹکتے تھے۔ لیکن، اپنے اٹ پٹے، بلکہ دلچسپ بولوں کے سبب وہ بالکل الگ نظر آئے۔
ایک ایسے گاؤں میں جہاں انگریزی بالکل ہی نہیں بولی جاتی ہے، لڑکیوں نے اُن آلوؤں کے بارے میں ایک گیت گایا تھا، جنہیں وہ کھاتی بھی نہیں ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں لڑکوں نے جو گیت گایا وہ ایک ڈاکٹر کے بارے میں تھا۔ غور طلب ہے کہ گاؤں کے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے کوئی کل وقتی ڈاکٹر نہیں ہے۔ جیسا کہ ہندوستان کے زیادہ تر حصوں میں – گاؤں یا شہری – ’ڈاکٹر‘ لفظ فزیشین اور سرجن دونوں کے لیے یکساں طور پر استعمال ہوتا ہے، یعنی دونوں کو اکثر ایک ہی آدمی سمجھا جاتا ہے۔ گیت میں جدید ایلوپیتھک میڈیکل سائنس کے تئیں بھی ایک گہرے اعتماد کا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔


