محمد حسنین گزشتہ ۲۵ برسوں سے دہلی میں ایک مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں – کبھی تعمیراتی جگہوں پر، تو کبھی سامان لادنے والی کی شکل میں، یومیہ مزدوری کا چاہے جو بھی کام انھیں مل جائے۔ ’’لیکن آج کا دن الگ ہے،‘‘ شمال مشرقی دہلی کے رام لیلا میدان میں کھڑے ٹینٹ کو گاڑتا ہوا دیکھ، وہ کہتے ہیں۔ ۲۸ نومبر کی رات سے کسان یہاں آنے والے ہیں۔ ۲۹ اور ۳۰ نومبر کو، دو دنوں کے کسان مکتی مورچہ میں حصہ لینے کے لیے، وہ ملک بھر سے یہاں آئیں گے۔
’’میں بھی ایک کسان ہوں،‘‘ ۴۷ سالہ حسنین کہتے ہیں۔ ’’ہمارے کھیت بہت زیادہ زرخیز نہیں رہ گئے تھے، اس لیے مجھے اترپردیش کے مرادآباد سے یہاں آنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مجھے کل ایک بڑی ریلی کی امید ہے۔ میں مرادآباد کے بھی کچھ کسانوں کو دیکھنے کی امید کر رہا ہوں۔ ہمیں ایک طویل عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔‘‘
رام لیلا میدان میں تقریباً ۶۵-۷۰ مزدور، ۲۸ نومبر، بدھ کی صبح سے ہی کام کر رہے ہیں۔ وہ زمین میں کیل گاڑ رہے ہیں، جس پر ٹینٹ کھڑے کیے جائیں گے۔ کیل کو لوہے کے ہتھوڑے سے ہر بار ٹھوکنے کے بعد ایک زوردار آواز نکلتی ہے۔ ٹینٹ کے کام سے کچھ ہی دوری پر، ۶-۸ لوگ آلو چھیلنے اور ایک بڑے برتن میں دودھ ابالنے میں مصروف ہیں۔ اس پوری کارروائی پر ۳۵ سالہ ہریش چندر سنگھ نظر رکھے ہوئے ہیں، جو بنیادی طور سے مدھیہ پردیش کے پورسا گاؤں کے رہنے والے ہیں، اور اب پاس کے ہی ایک حلوائی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ’’ہمیں کم از کم ۲۵۰۰۰ لوگوں کے لیے چائے اور سموسے بنانے ہیں [جن کے آج رات میدان میں قیام کرنے کی امید ہے]،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔





