’’کیا آپ کو لگتا ہے، آج ٹرین کے اندر بیٹھنے کی جگہ ملے گی؟‘‘ جنوبی کولکاتا کے جادوپور ریلوے اسٹیشن پر بھیڑ سے بھرے پلیٹ فارم پر کھڑی، بریش پتی سردار پوچھتی ہیں۔ ان کے بغل میں انتظار کر رہی عورتیں مایوسی میں اپنا سر ہلاتی ہیں اور سوال پر ہنستی ہیں۔
بریش پتی شام ۴ بج کر ۳۵ منٹ پر کیننگ کو جانے والی ٹرین کا انتظار کر رہی ہیں۔ ٹرین جادوپور اسٹیشن پر پہنچتی ہے۔ عورتیں بھیڑ میں شامل ہو جاتی ہیں اور پہلے سے ہی بھرے عورتوں کے دو ڈبوں میں سے ایک میں گھسنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ ٹرین شمالی کولکاتا کے سیالدہ اسٹیشن سے چلی اور پارک سرکس، بالی گنج جنکشن اور ڈھاکوریہ اسٹیشنوں پر رکتی ہوئی یہاں پہنچی ہے۔ جادوپور کے بعد، یہ باگھا جتن، نیو گڈیا اور گڈیا اسٹیشنوں پر رکے گی – یہ سبھی بنیادی طور پر جنوبی کولکاتا کے متوسط طبقہ کے اور خوشحال علاقے ہیں۔ جادوپور – ساتھ ہی روٹ کے دیگر اسٹیشنوں پر انتظار کرنے والی عورتیں – جنوبی کولکاتا کے ان علاقوں میں گھریلو نوکرانیوں کے طور پر کام کرتی ہیں۔
ان میں سے کئی عورتیں ۴۵ کلومیٹر لمبے سیالدہ-کیننگ روٹ، جس میں کل ۱۶ اسٹیشن ہیں، اور ۶۵ کلومیٹر چلنے والی سیالدہ-لکشمی کانتاپور ٹرین سے آتی ہیں جو ۲۵ اسٹیشنوں پر رکتی ہے یا پھر سیالدہ-نام خانہ لائن پکڑتی ہیں، جو جنوب میں اور بھی آگے چلی جاتی ہے۔ اس لیے کولکاتا میں کچھ لوگ مشرقی ریلوے کی ان ٹرینوں کو ’جھی اسپیشل‘ کہتے ہیں۔ بنگالی میں ’جھی‘ خاتون گھریلو ملازمہ کے لیے ایک ہتک آمیز لفظ ہے۔









