دِنکر آئیولے کے لیے یہ سال پوری طرح خاموش رہا، جب کئی مہینوں سے ان کی بانسری سے کوئی ساز نہیں نکلا۔ ’’یہ ساز سیدھے منہ کے رابطہ میں آتا ہے۔ اس کورونا دور میں اس قسم کا رابطہ خطرے سے بھرا ہے،‘‘ اینٹ اور مٹی سے بنے اپنے گھر کے اندر اپنے ورکشاپ میں بیٹھے، وہ کہتے ہیں۔
ان کے بغل میں ایک پرانا لکڑی کا ڈبہ ہے، جو اوزاروں سے بھرا ہے۔ اگر وہ ان کا استعمال کرتے جیسا کہ انہوں نے ایک سال پہلے تک کیا تھا، تو انہیں ایک کونے میں سلیقہ سے رکھے، کچے پیلے بانس کے ڈنڈوں سے بانسری بنانے میں ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت لگتا۔
اس کی بجائے، ۷۴ سالہ دِنکر ہماری گفتگو کے دوران بانس کو بس دیکھتے رہتے ہیں۔ مارچ ۲۰۲۰ میں لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے ان کا کام تقریباً پوری طرح سے رک گیا ہے – اپنی اس دستکاری میں مہارت حاصل کرنے کے لیے وہ تقریباً ۱۵۰۰۰۰ گھنٹے تک کام کر چکے ہیں، اور پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، ایک سال میں ۲۵۰ دنوں سے لیکر ۲۷۰ دنوں تک، روزانہ ۱۰ گھنٹے محنت کرتے تھے۔
انہوں نے ۱۹ سال کی عمر سے بانسری بنانا شروع کیا تھا، تب سے آئیولے نے اتنا لمبا بریک کبھی نہیں لیا تھا۔ اور نہ ہی انہوں نے پچھلے سال سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کیا، جیسا کہ وہ عموماً مہاراشٹر اور کرناٹک کی مختلف جتراؤں (میلے) میں بانسری بیچنے کے لیے کیا کرتے تھے۔ جترا جیسے بڑے پروگراموں کی اجازت ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔












