اُمیش کیدار ایک ہنسیا اٹھاتے ہیں، آگے جھکتے ہیں اور گنّے کی جڑ کو چھیلنے لگتے ہیں۔ وہ فوراً ہی دوسرے گنّے کی طرف مڑتے ہیں۔ پھر تیسرے، اور پھر چوتھے گنّے کی طرف۔ گنّے کی کٹائی میں طاقت اور محنت لگتی ہے، اور وہ تیز دھوپ میں چار ایکڑ کھیت میں کام کر رہے ہیں۔ ’’ہم نے صبح میں ساڑھے ۵ بجے کام شروع کیا تھا، اور یہ شام کے ۷ بجے سے پہلے ختم نہیں ہوگا،‘‘ گنّے سے اپنی نظریں ہٹائے بغیر وہ کہتے ہیں۔ ’’پچھلے ڈھائی مہینوں سے [جس کی شروعات نومبر میں ہوئی تھی] یہی میرا معمول رہا ہے۔ اور اگلے ڈھائی مہینوں تک میرا دن ایسے ہی گزرے گا۔‘‘
ان کی بیوی مُکتا اُمیش کے ذریعہ چھیلے گئے گنّے کو اُٹھاتی ہیں، زمین پر انھیں ایک دوسرے کے اوپر رکھتی ہیں، تقریباً ۱۰ گنّے کا ایک سیٹ بناتی ہیں، اور پھر گنّے کے پتّوں سے بنی رسی سے انھیں آپس میں باندھ دیتی ہیں۔ اس کے بعد گٹھّر کو اٹھاتی ہیں، اسے اپنے سر کے اوپر ٹھیک سے رکھتی ہیں، اور گنّے کی کٹائی سے بن جانے والی پھسلن بھری جگہ پر کھڑے ٹرک کی طرف چل پڑتی ہیں۔ ’’کچھ دیر بعد، ہم اپنا کردار بدل لیتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’اس دوران میرے کندھوں اور بازوؤں میں درد ہونے لگتا ہے۔ اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے ہم بعض دفعہ درد کی گولیاں لیتے ہیں۔‘‘
مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں واڈوانی تعلقہ کے سونا کھوٹا گاؤں کے اس کھیت میں ۱۰ میاں بیوی جوڑی بنا کر کام کر رہے ہیں، جس سے ہنسیا سے گنّے پر مار کی آواز گونج رہی ہے۔ اُمیش اور مُکتا کی طرح ہی کچھ مزدور خود کسان ہیں؛ دیگر کے پاس اپنی زمین نہیں ہے۔ لیکن یہ دونوں اپنے تین ایکڑ کھیت پر جو کپاس اُگاتے ہیں اس سے کوئی خاص منافع نہیں ہوتا، اسی لیے وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے گنّے کی کٹائی کرکے اپنی آمدنی کو دوگنا کرنے پر مجبور ہیں۔ ’’گنّے کی کٹائی کے اخیر میں ہمیں جو پیسہ ملتا ہے، وہ زیادہ نہیں ہوتا،‘‘ اُمیش کہتے ہیں۔ ’’لیکن کم از کم یہ ایک آمدنی ہے۔‘‘







