مانسون رک چکا تھا۔ بہار کے بڑگاؤں خورد گاؤں کی عورتیں اپنے کچے مکانوں کی باہری دیواروں کو لیپنے کے لیے کھیتوں سے مٹی لا رہی تھیں۔ دیواروں کو مضبوط اور خوبصورت بنانے کا یہ کام وہ اکثر کرتی ہیں، خاص کر تہوار سے پہلے۔
بائیس سالہ لیلاوتی دیوی مٹی لانے کے لیے دوسری عورتوں کے ساتھ گھر سے نکلنا چاہتی تھیں۔ لیکن ان کا تین مہینے کا بیٹا رو رہا تھا اور سو نہیں رہا تھا۔ ان کے شوہر، ۲۴ سالہ اجے اوراؤں، اسی علاقے میں اپنی کیرانے کی دکان پر تھے۔ بچہ ان کی بانہوں میں لیٹا ہوا تھا اور لیلاوتی تھوڑی تھوڑی دیر میں اس کی پیشانی پر اپنی ہتھیلی رکھ رہی تھیں، جیسے کہ اس کا بخار چیک کر رہی ہوں۔ ’’وہ ٹھیک ہے، کم از کم مجھے ایسا لگتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
سال ۲۰۱۸ میں، لیلاوتی کی ۱۴ مہینے کی بیٹی کو بخار ہو گیا تھا، جس سے اس کی موت ہو گئی تھی۔ ’’صرف دو دن سے بخار تھا، وہ بھی زیادہ نہیں،‘‘ لیلاوتی نے بتایا۔ اس کے علاوہ، والدین کو موت کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ نہ تو اسپتال کا کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی کوئی نسخہ یا دوا۔ میاں بیوی نے منصوبہ بنایا تھا کہ اگر بخار اگلے کچھ دنوں تک کم نہیں ہوتا ہے، تو وہ اسے کیمور ضلع کے ادھورا بلاک کے اپنے گاؤں سے نو کلومیٹر دور واقع پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) لے جائیں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
کیمور وائلڈ لائف سینکچوری کے جنگل والے علاقہ کے قریب واقع پی ایچ سی میں چہاردیواری نہیں ہے۔ بڑگاؤں خورد گاؤں اور اس سے ملحق بڑگاؤں کلاں کے لوگ جنگلی جانوروں کی کہانیاں سناتے ہیں کہ بھالو، تیندوا اور نیل گائے اس عمارت (دونوں گاؤں کے لیے یہی ایک عام پی ایچ سی ہے) میں گھومتے ہیں، مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ طبی ملازمین کو بھی ڈراتے ہیں، جو یہاں کام کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔
’’[بڑگاؤں خورد میں] ایک ذیلی مرکز بھی ہے، لیکن اس عمارت کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ بکریوں اور دیگر جانوروں کے لیے آرامگاہ بن گیا ہے،‘‘ ایک منظور شدہ سماجی طبی کارکن (آشا)، پھُلواسی دیوی کہتی ہیں جو اپنے خود کے پیمانوں کے مطابق، ۲۰۱۴ سے محدود کامیابی کے ساتھ اس نوکری پر برقرار ہیں۔






