اکتوبر ۲۰۲۲ کی دیر شام کو، بیلاری کے وڈّو گاؤں کے کمیونٹی سینٹر میں ایک کمزور، ضعیف خاتون ایک ستون سے ٹیک لگائے بیٹھی ہیں اور اپنے پیروں کو پھیلا کر آرام کر رہی ہیں۔ سندور تعلقہ کی پہاڑی والی سڑکوں پر ۲۸ کلومیٹر پیدل چلنے کی وجہ سے وہ کافی تھک چکی ہیں۔ اگلے دن انہیں مزید ۴۲ کلومیٹر چلنا ہے۔
سندور کے سُشیل نگر گاؤں سے تعلق رکھنے والی یہ کان کن، ہنومکّا رنگنّا، دو روزہ پد یاترا (پیدل سفر) پر نکلی ہیں، جس کا اہتمام بیلاری ضلع گنی کارمیکر سنگھ (بیلاری ضلع کے کانوں میں کام کرنے والوں کی تنظیم) نے کیا ہے۔ احتجاج کرنے والی یہ خواتین ۷۰ کلومیٹر پیدل چل کر، شمالی کرناٹک کے بیلاری (جسے بلاری بھی کہا جاتا ہے) میں واقع ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں اپنے مطالبات جمع کرانے جا رہی ہیں۔ گزشتہ ۱۰ سالوں کے دوران یہ ۱۶ویں بار ہے جب ہنومکّا رنگنّا دیگر کان کن مزدوروں کے ساتھ، مناسب معاوضہ اور متبادل ذریعہ معاش کا مطالبہ کرتے ہوئے اس طرح سڑکوں پر اتری ہیں۔
وہ بیلاری کی ان سینکڑوں دستی مزدوروں میں سے ایک ہیں، جنہیں ۱۹۹۰ کی دہائی کے آخر میں کام سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں، ’’مان لیجئے کہ میں اب ۶۵ سال کی ہو چکی ہوں۔ اب اس بات کو ۱۵ سال سے بھی زیادہ ہو چکا ہے جب مجھ سے میرا کام چھین لیا گیا تھا۔ اس دوران پیسہ [معاوضہ] ملنے کا انتظار کرتے کرتے کئی لوگ مر گئے…خود میرے شوہر کی بھی موت ہو چکی ہے۔
’’ہم زندہ ضرور ہیں، لیکن ملعون ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آیا ان ملعونوں کو یہ [معاوضہ] ملے گا بھی یا ہم بھی اس کے بغیر ہی مر جائیں گے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’ہم احتجاج کرنے آئے ہیں۔ جہاں کہیں بھی میٹنگ ہوتی ہے، میں اس میں شرکت کرتی ہوں۔ ہم نے سوچا کہ چلو آخری بار کوشش کرکے دیکھتے ہیں۔‘‘















