ایک شیر دہاڑتا ہے۔ ایک کتا بھونکتا ہے۔ پھر چیختے چلاتے انسانوں کی آواز سے پورا علاقہ گونج اٹھتا ہے۔
اس میں کچھ بھی غیرمعمولی نہیں ہے، کیونکہ ہم چندر پور کے تاڈوبا اندھاری ٹائیگر ریزرو (ٹی اے ٹی آر) سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جانوروں اور انسانوں کے چیخنے اور چلانے کی ریکارڈ شدہ آوازیں مانگی گاؤں کے لاؤڈ اسپیکر سے آ رہی ہیں۔ میگا فون کو بانس پر باندھ دیا گیا ہے اور اس کے تاروں کو کپاس اور تور کے کھیت میں رکھے بیٹری سے چلنے والے کیڑے مار دوا کے اسپرے پمپ سے جوڑ دیا گیا ہے۔
’’اگر میں رات کو یہ الارم نہ بجاؤں تو جنگلی سؤر یا نیل گائیں [جو رات میں چلنے والے جانور ہیں] میری فصلوں کا صفایا کر دیں گے،‘‘ ۴۸ سالہ کسان سریش رینگھے کہتے ہیں۔ سریش جنگلی جانوروں کو خوفزدہ کرنے کی اپنی تازہ کوشش کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ’’وہ خاص طور پر تور اور چنے [کالے چنے] پسند کرتے ہیں،‘‘ جس کا نتیجہ ان کی فصل کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔
شمسی توانائی اور تاروں کے باڑ لگانے کے باوجود جب وہ انہیں باہر رکھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، تو گیجٹ کے دو پن والے پلگ کو بیٹری سے چلنے والے اسپرے پمپ کے ساکٹ میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہی جانوروں اور انسانوں کی بلند آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔















