اُس دن نسیم الدین کافی جذباتی ہو گئے تھے۔ ان کی زندگی میں ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ انہیں اپنے ماں باپ سے دور جانا پڑ رہا ہو۔ سات سال کے نسیم الدین کے لیے، گھر سے ۱۰-۱۲ کلومیٹر دور نئی جگہ جانے کا تجربہ ایسا تھا جیسے راستے میں ہر قدم پر کچھ چھوٹ جائے۔ ان کے من میں گھر پر گزارے گئے سالوں کی یادیں تھیں اور آنکھوں کے سامنے جیسے بچپن پیچھے چھوٹتا جا رہا تھا۔ وہ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’مجھے بہت برا لگ رہا تھا اور میں رونے لگا۔ گھر اور فیملی کو چھوڑ کر جانے کے خیال سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔‘‘
وہ ’راکھال‘ (جانوروں کی رکھوالی کرنے کا کام) کے طور پر کام کرنے کے لیے بھیجے جا رہے تھے۔ اب ۴۱ سال کے ہو چکے نسیم الدین بتاتے ہیں، ’’میری فیملی کی مالی حالت بہت خراب تھی، میرے ماں باپ کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ حالات ایسے تھے کہ دو وقت کا کھانا تک نصیب نہیں ہو رہا تھا۔ زیادہ تر دنوں میں عالم یہ رہا کہ جو کچھ بھی بغیر کھاد پانی کی مشقت کے پیدا ہو جاتا تھا، ہم نے اسی کے سہارے دن میں بمشکل ایک بار کھانا کھایا۔ ہمارے گاؤں میں شاید ہی کوئی ایسا تھا جسے دو وقت کی روٹی نصیب ہو رہی ہو۔‘‘ پڑھائی لکھائی ان کے لیے دور کی کوڑی تھی۔ وہ کہتے ہیں، ’’اس وقت میں اسکول جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہم لوگ بالکل بدحالی میں جی رہے تھے، تو میری فیملی میری پڑھائی لکھائی کا خرچ کیسے اٹھا سکتی تھی؟‘‘
اس لیے، انہیں دھبری ضلع کے اوراربھوئی گاؤں (تب آسام میں) واقع اپنا جھونپڑی نما چھوٹا سا گھر چھوڑ کر کام کی تلاش میں نکلنا پڑا اور اس سلسلے میں وہ ۳ روپے کا ٹکٹ لیکر بس سے منولّا پاڑہ گاؤں تک گئے۔ وہاں جس شخص نے انہیں کام دیا اس کے پاس ۷ گائیں اور ۱۲ بیگھہ زمین تھی۔ نسیم الدین گزرے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’راکھال کا کام کرتے ہوئے زندگی بیحد مشکلوں بھری رہی۔ مجھے اس عمر میں بھی گھنٹوں کام کرنا پڑتا تھا۔ کبھی کبھی مجھے پورا کھانا تک نہیں ملتا تھا؛ اگر ملتا بھی تھا، تو وہ باسی ہوتا تھا۔ بھوک کی وجہ سے مجھے رونا آتا تھا۔ شروع شروع میں تو مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا تھا، ملتا تھا تو بس پیٹ بھرنے کے لیے کھانا اور بستر لگاکر سونے کے لیے تھوڑی سی جگہ۔ ہر سال میرے مالک کے کھیتوں میں ۱۰۰-۱۲۰ من چاول کی پیداوار ہو جایا کرتی تھی۔ اس طرح کام کرتے ہوئے جب چار سال گزر گئے، تو مجھے بھی دو من چاول دیا جانے لگا۔‘‘ یعنی مارچ سے نومبر تک کے کھیتی کے سیزن کے ختم ہونے پر تقریباً ۸۰ کلو چاول۔
آسام اور میگھالیہ کی سرحد پر واقع دیہی علاقوں میں کچھ دہائی پہلے تک گھر کے نوجوان بچوں کو ’راکھال‘ کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے بھیجنے کا رواج تھا۔ غریب فیملی کے لوگ اپنے بچوں کو عام طور پر بغیر نقد مزدوری کرنے کے لیے امیر کسانوں کے یہاں چرواہا کا کام کرنے بھیج دیتے تھے۔ مقامی علاقوں میں اس قسم کے نظام کو ’پیٹ بھتّی‘ کہا جاتا تھا (جس کا لفظی معنی ’چاول سے پیٹ بھرنا‘ ہوتا ہے)۔











