تانو بائی کے ہنر میں بھول چوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے ذریعے بہت محنت سے کی گئی ہاتھ کی باریک سلائی میں ایک معمولی گڑبڑی کو ٹھیک کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے – پوری کام کو نئے سرے سے دوبارہ کرنا۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ۹۷ ہزار ۸۰۰ ٹانکوں کو کھول کر ان کی دوبارہ سلائی کرنا۔
تقریباً ۷۴ سال کی بزرگ تانو بائی اپنی کاریگری کی باریکیوں کو سمجھانے کے ارادے سے کہتی ہیں، ’’اگر آپ ایک بھی غلطی کرتے ہیں، تو وہ واکل میں چبھنے لگے گی۔‘‘ اس کے باوجود انہیں ایسی کسی عورت کی یاد نہیں آتی، جسے کبھی بھی واکل کی سلائیوں کو اُدھیڑنا پڑا ہو۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ایکدا شکلن کی چوک ہوت ناہی [ایک بار آپ نے یہ ہنر سیکھ لیا، تو آپ سے چوک نہیں ہوتی]۔‘‘
انہوں نے اس ہنر کی باریکیوں کو کبھی بھی روایتی طریقے سے نہیں سیکھا، بلکہ پیٹ کی ضرورتوں نے انہیں سوئی اور دھاگہ اٹھانے کے لیے مجبور کر دیا۔ ساٹھ کی دہائی کی اپنی پرانی یادوں کو کھنگالتی ہوئی وہ کہتی ہیں، ’’پوٹانے شِکولن ملا [غریبی اور محرومی نے مجھے یہ کام سکھا دیا]۔‘‘ تب وہ ۱۵ سال کی ایک شادی شدہ خاتون تھیں۔
تانو بائی عرف آجی (جیسا کہ لوگ انہیں احترام سے بلاتے ہیں) کہتی ہیں، ’’جب میرے ہاتھوں میں قلم اور پینسل ہونی چاہیے تھی، اُس عمر میں میں نے سوئی اور کھرپی سنبھال لی تھی۔ لیکن اگر میں اسکول گئی ہوتی، تو آپ کو لگتا ہے میں یہ ہنر سیکھ پاتی؟‘‘





















