نرملا دیوی سیم و زر کے گوٹے اور شیشے کے ٹکڑوں سے مزین گھاگھرا تھامے، شام کو تقریباً ۷ بجے اُدے پور کی باگور کی حویلی میں اسٹیج پر نمودار ہوتی ہیں۔ وہاں، وہ اپنی بیٹی تارا اور آٹھ دیگر خواتین کے ساتھ – سبھی ایک دوسرے کی رشتہ دار ہیں – وہ چاری رقص، گھومر، بَھوئی اور دیگر قسموں کو پیش کرتی ہیں۔
’’روزانہ یکساں توانائی کے ساتھ رقص کرنا آسان نہیں ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ خاص کر تب، جب اپنے دانتوں میں تلوار دبا کر لے جانا ہو یا سر پر رکھے دھات کے برتن کے اوپر تیل کے چراغ روشن کرنا، یا کانچ کے ٹکڑوں پر رقص کرنا ہو یا سر پر مٹی کے گھڑے کو متوازن کرنا۔ باوجود اس کے، نرملا اور ان کی ٹولی کی رکن خواتین – ان کی نند سیما دیوی اور ساس بھامری بائی سمیت – ہر شام کو ایسا کرتی ہیں۔ ’’میری نند اپنے سر پر ۱۱ برتن رکھتی ہیں، اور اس کے آخر میں، وہ سر سے پیر تک پسینے میں ڈوب جاتی ہیں،‘‘ نرملا بتاتی ہیں۔ ’’پھر بھی وہ اسٹیج پر مسکراتی رہتی ہیں، اور اگلے رقص کے لیے تیار ہونے کو واپس چینجنگ روم میں جاتی ہیں۔‘‘
لیکن رقاصہ برادری، کامد (درج فہرست ذات کے طور پر جلد بند)، تیرہ تالی کے لیے سب سے زیادہ جانی جاتی ہے۔ یہ ۱۰-۱۵ منٹ کا سلسلہ، جو حویلی میں ایک گھنٹے کی پیشکش کا حصہ ہے، مقامی فوک ہیرو، بابا رام دیو کو خراجِ عقیدت ہے۔ برادری کا یہ عقیدہ ہے کہ انہوں نے لاچار و بے بس لوگوں کی مدد کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔







