ہم ایک موٹے ہاتھی کے قدموں کے نشان ڈھونڈنے کے لیے پہاڑیوں اور کھیتوں میں گھوم رہے ہیں۔
ہمیں ایسے بہت سے نشان ملتے ہیں جو سائز میں کھانے کی پلیٹ سے کہیں زیادہ بڑے ہیں، اور نرم زمین پر کافی گہرے بنے ہوئے ہیں۔ جو نشان پرانے ہیں، وہ آہستہ آہستہ مسخ ہو رہے ہیں۔ بقیہ نشان ان جانوروں کی کارستانی بیان کر رہے ہیں: تھوڑی آوارہ گردی، اچھا کھانا، اور ڈھیر سارا گوبر۔ اور جن چیزوں سے ہوکر انہوں نے اپنی پگڈنڈیاں بنائی ہیں: گرینائٹ پول، تار کے باڑ، درخت، دروازے…
ہم ہاتھی سے متعلق ان تمام چیزوں کی تصویر کھینچنے کے لیے رکتے ہیں۔ میں اپنے ایڈیٹر کو قدموں کے نشان کی ایک تصویر بھیجتی ہوں۔ ’’کیا یہ ہاتھی کا ہے؟‘‘ اس امید میں کہ شاید وہ اس کا ’ہاں‘ میں جواب دیں۔ حالانکہ، میں دعا کر رہی ہوں کہ ہاتھی کی موجودگی سے متعلق ان کی امیدوں پر پانی پھر جائے۔
کیوں کہ، میں نے یہی سنا ہے کہ کرشنا گیری ضلع کی گنگن ہلّی بستی میں اس بات کی امید مت کیجئے گا کہ ہاتھی اپنی سونڈ کو آپ کے سر پر رکھ کر آشیرواد دیں گے اور بدلے میں کھانے کو کیلا مانگیں گے۔ مندر کے ہاتھی بھلے ہی ایسا کرتے ہوں، لیکن یہاں کے ہاتھی ان کے جنگلی بھائی بہن ہیں۔ اور وہ عام طور سے بھوکے ہوتے ہیں۔
دسمبر ۲۰۲۱ میں، تمل ناڈو کے کرشنا گیری ضلع میں راگی کے کسانوں سے ملنے کے لیے کیا گیا میرا سفر، مجھے غیر متوقع طور پر ہاتھیوں کے آنے جانے والے راستے پر لے گیا۔ میں نے سوچا کہ اس علاقے میں رہنے والے لوگ کاشتکاری سے جڑی معیشت کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ ظاہر ہے، کچھ لوگوں نے اس پر بات بھی کی۔ لیکن، ایک کھیت سے دوسرے کھیت پر جاتے ہوئے، راستے میں زیادہ تر لوگوں نے یہی بتایا کہ وہ صرف اپنے گھریلو استعمال کے لیے ہی راگی اُگاتے ہیں – اور اس کی وجہ ہاتھی ہے۔ کم قیمت (۳۵ سے ۳۷ روپے کی بجائے، ۲۵ سے ۲۷ روپے فی کلو)، ماحولیاتی تبدیلی، اور حد سے زیادہ بارش کی وجہ سے کسانوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اوپر سے ہاتھیوں کے حملے نے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔
آنند رامو ریڈی اسے ذرا تفصیل سے بتاتے ہیں، ’’ہاتھی کافی ذہین ہوتے ہیں۔ انہوں نے تار کی رسیوں کو نیچے کرنا اور تار کے باڑ کو پار کرنا سیکھ لیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ بجلی کے کرنٹ والے باڑ کو درختوں سے کیسے شارٹ سرکٹ کیا جاتا ہے۔ اور وہ ہمیشہ جھنڈ کی تلاش میں رہتے ہیں۔‘‘ آنند (جیسا کہ لوگ انہیں پکارتے ہیں)، دینکنی کوٹّئی تعلق میں واقع ایک بستی، واڈرا پلایم کے ایک کسان ہیں۔ وہ ہمیں گھمانے کے لیے میلا گیری ریزرو فاریسٹ کے کنارے لے جاتے ہیں، جو کہ کاویری نارتھ وائلڈ لائف سینکچوری کا حصہ ہے۔


















