منگلا تائی کے بڑے بیٹے اور پھڑ کے منیجر، 45 سالہ انل بنسوڈے کے مطابق، تماشہ منڈلی میں سب سے زیادہ پیسے رقص کرنے والی خواتین کو ملتے ہیں۔ ان کی منڈلی میں ایسی تقریباً 16 خواتین ہیں۔ ’’رواں سیزن 17-2016 میں، خواتین ڈانسر کی سب سے زیادہ تنخواہ 30 ہزار روپے ہے،‘‘ انھوں نے بتایا۔ ان کی وجہ سے بھاری بھیڑ جمع ہوتی ہے اور سامعین کی طرف سے سب سے زیادہ واہ واہی بھی انہی کو ملتی ہے۔ لیکن، انل یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایسی رقاصاؤں کو تلاش کرنا آسان نہیں ہے، جو آٹھ مہینے تک سفر میں رہنے کے لیے تیار ہوں۔ ’’اونچی تنخواہیں ہی انھیں حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔‘‘
اس سیزن میں، سشما مالی سر فہرست رقاصہ تھیں جنہوں نے کئی گانوں پر رقص کیا۔ انھوں نے تماشہ میں اپنے کریئر کی شروعات 13-12 سال کی عمر میں کی، اور پھڑ میں اپنی ماں کو رقص کرتے ہوئے دیکھ کر بڑی ہوئیں۔ سشما نے جب تماشہ آرٹسٹ بننے کا فیصلہ کیا، تو شروع میں ان کی ماں ناراض ہوئیں، کیوں کہ وہ اپنی بیٹی کو اتنی محنت کرتی نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن سشما اپنی ضد پر اس لیے اَڑی رہیں، کیوں کہ وہ مالی اعتبار سے آزاد ہونا چاہتی تھیں۔ ’’میرے شوہر (ایک کسان) بھی نہیں چاہتے کہ میں پھڑ میں کام کروں، لیکن مجھے اپنے آٹھ سال کے بھائی اور تین سال کی بیٹی کی پرورش کرنی ہے،‘‘ انھوں نے بتایا۔ سشما بھی نہیں چاہتیں کہ کل کو ان کی بیٹی اس پیشہ میں آئے، اسی لیے انھوں نے آج تک اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ ایک تماشہ ڈانسر ہیں۔
بہت سے لوگ اپنے والدین اور بھائی بہنوں کو منڈلی میں کام کرتے ہوئے دیکھ کر تماشہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ زرعی مزدوری کے مقابلے اسے زیادہ مستحکم ذریعۂ معاش تصور کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ پھڑ میں کام کرنے سے ایک فنکار کے طور پر انھیں پہچان ملے گی اور سماج میں ان کا رتبہ بھی بڑھے گا۔
تماشہ کئی کنبوں کے لیے گھر بھی ہے، جیسے کہ سانگلی ضلع کے دوبل دھلگاؤں کی شاردا کھاڈے کی فیملی کے لیے۔ شاردا ایک رقاصہ ہیں اور وَگ ناٹیہ (فوک ڈرامہ) میں کام کرتی ہیں۔ ایک بیٹا ڈھول وغیرہ بجاتا ہے، جب کہ دوسرا وائر مین ہے، اور ان کے شوہر ایک ایکٹر ہیں۔ تماشہ کاروبار ہی ان کے لیے بہترین پیشہ ہے۔ ان کے رشتہ دار زرعی مزدور ہیں، لیکن انھیں دن بھر کی مزدوری 200 روپے مشکل سے ہی مل پاتی ہے اور یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ روزانہ انھیں کام مل ہی جائے گا۔
لیکن تماشہ سے لگاتار ہونے والی آمدنی کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ہر دن ایک نئے گاؤں میں خیمہ گاڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے، شاردا کہتی ہیں۔ اس کے بعد اُلٹے سیدھے شیڈول، دیر رات تک کام کرنا، بے وقت کھانا، اور اکثر خراب حالات میں زندگی گزارنا۔