آٹھ سالہ رگھو چنئی میں میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ چلائے جا رہے اپنے نئے اسکول میں پہلے دن، بلیک بورڈ پر یا اپنے سامنے رکھی نصابی کتابوں میں لکھا تمل کا ایک بھی لفظ سمجھ نہیں سکا، جب کہ اترپردیش کے نولی گاؤں میں اپنے اسکول میں، وہ ہندی یا بھوجپوری میں سب کچھ پڑھتا، لکھتا اور سمجھتا تھا۔
اب وہ صرف تصویروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر سکتا تھا کہ کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ ’’ایک کتاب میں پلس- مائینَس (جمع- تفریق) کے نشان تھے، اس لیے وہ ریاضی تھا؛ ایک اور کتاب شاید سائنس تھی؛ ایک دیگر کتاب میں عورتیں، بچے، گھر اور پہاڑ تھے،‘‘ وہ کہتا ہے۔
رگھو جب کلاس ۴ میں دوسری صف میں ایک بینچ پر خاموش بیٹھا ہوا تھا، تو اس کے بغل میں بیٹھے ایک لڑکے نے اس سے ایک سوال پوچھا۔ ’’سبھی بچوں نے مجھے گھیر لیا اور مجھ سے تمل میں کچھ پوچھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ تو میں نے کہا، ’میرا نام رگھو ہے‘۔ وہ ہنسنے لگے۔ میں ڈر گیا۔‘‘
رگھو کے والدین نے جب مئی ۲۰۱۵ میں جالون ضلع کے ندی گاؤں بلاک میں واقع اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو جس دن وہ ٹرین سے چنئی کے لیے روانہ ہوئے اس دن وہ زمین پر لیٹ کر رونے لگا تھا۔ اس کے پانچ سال کے بھائی، سنی نے اپنے والد کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’وہ [رگھو] جانا نہیں چاہتا تھا۔ اسے اس طرح دیکھ کر میرا دل پھٹنے لگا تھا،‘‘ اس کی ماں، گایتری پال کہتی ہیں۔
لیکن رگھو کے والدین کے لیے اپنے گاؤں کو چھوڑ کر کہیں اور کام کرنا ناگزیز تھا۔ ’’اگر ہمیں کھیتی سے کچھ نہیں ملتا ہے، تو یقینی طور پر ہمیں مہاجرت کرنی ہوگی۔ اُس سال [۲۰۱۳-۲۰۱۴] ہمیں بمشکل دو کوئنٹل باجرا ملا تھا۔ فصلوں کے لیے پانی نہیں، گاؤں میں کوئی کام نہیں۔ ہمارے گاؤں کے آدھے لوگ پہلے ہی، جہاں بھی انہیں کام ملا، ریاست سے باہر جا چکے تھے،‘‘ ۳۵ سالہ گایتری کہتی ہیں۔ وہ اور ان کے شوہر، ۴۵ سالہ منیش، چنئی کے ایک تعمیراتی مقام کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں ان کے گاؤں کے کچھ لوگ پہلے سے ہی کام کر رہے تھے۔












