سال ۲۰۱۴ میں، اڈیشہ کے بسم کٹک کے محکمہ جنگلات کا ایک اہل کار، گاؤں والوں اور محکمہ کے درمیان چلی آ رہی لمبی لڑائی پر بات کرنے کندھوگڈا گاؤں پہنچا۔ وہاں ایک مجمع کو دیکھ کر وہ شاید حیران ہوا، جس میں عورتیں ہی عورتیں تھیں اور سب سے عمر دراز آگے تھیں۔ ہندوستان کے دیگر گاؤوں میں، وہ شاید مردوں کے غلبہ والے مجمع میں مرد سرپنچ کو دیکھتا۔
لیکن یہاں، کوندھوں کے درمیان زیادہ تر اہم فیصلے عورتیں کرتی ہیں۔ رائے گڑھ ضلع کے میدانوں میں اکثریت کوندھ قبیلہ کی ہے (کل آبادی: ۹ لاکھ ۶۷ ہزار ۹۱۱ ہے، جن میں سےے ۵ لاکھ ۴۱ ہزار ۹۰۵ کا تعلق متعدد درج فہرست قبائل سے ہے)۔ حالانکہ نسل باپ سے چلتی ہے، لیکن برادری نے اس بات کو یقینی بنا رکھا ہے کہ مرد و خواتین برابری کے ساتھ رہیں۔ جیسا کہ نیام گیری کے کرنڈی گڈا گاؤں کے ۶۵ سالہ لوکناتھ نَوری بتاتے ہیں، ’’پہاڑوں کے اوپر بیٹھے ہوئے نیام راجا (نیام گیری کے دیوتا) مرد ہیں اور ہمارے گاؤں کی دیوی عورت ہے (ٹوٹم کی شکل کا لکڑی کا ڈھانچہ، جو گاؤں میں داخل ہونے کی جگہ پر لگا ہوا ہے)۔ ہم انہی دونوں کی وجہ سے خوشحالی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی ایک کو بھی نقصان پہنچا، تو گاؤں میں کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔‘‘
کوندھوں کے درمیان، مزدوری کی تقسیم اسی فلسفہ پر منحصر ہے۔ ہر گاؤں کی گورننگ یونٹ، کُٹُمبھ میں عورتیں برابری کے ساتھ شریک کرتی ہیں اور اپنے خیالات کا دفاع کرتی ہیں۔ مرد جہاں ایک طرف کھیتی اور شکار کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف عورتیں اپنی برادری کی بقیہ دنیا کا خیال رکھتی ہیں۔
کندھوگڈرا میں، عورتیں نے یہی کیا۔ گاؤں والوں نے سفیدا کے درخت لگانے کی مخالفت کی (جو ۱۹۸۰ کی دہائی کی ایک بدنامِ زمانہ جنگلاتی اسکیم تھی)، کیوں کہ یہ درخت مقامی ماحولیاتی نظام کا حصہ نہیں ہیں، اور ان سے انسانوں اور جانوروں کو بہت کم فائدہ ہوتا ہے۔ گاؤں والوں نے جب بار بار اس درخت کے پودے لگانے کی مخالفت کی، تو اہل کار وہاں پہنچا۔ اس سرکاری اہل کار کو چونکہ ان برادریوں کے درمیان عورتوں کے مقام کا علم نہیں تھا، اس لیے اس نے دھمکیاں دینی شروع کردیں کہ اگر گاؤں نے مخالف جاری رکھی، تو اس کے سنگین نتائج انھیں بھگتنے پڑیں گے۔
دو بزرگوں، سنگاری کُنگاروک اور کوسا کُنگاروک نے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ پودکاری کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ محکمہ سے صرف اتنی سی گزارش کر رہے ہیں کہ وہ کچھ اور لگائیں، جس سے گاؤوں والوں اور جنگل کے جانوروں کو فائدہ پہنچے۔ کوسا کی شکایت ہے کہ اہل کار نے ان کی بات نہیں سنی اور انھیں دھمکانا شروع کر دیا۔ جب حد ہوگئی، تو عورتوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انھوں نے اسے دھکے دینا شروع کردیا۔






