’’پندرہ، سولہ، اٹھارہ…‘‘ کھنڈو مانے، اٹھّیا کی پیٹھ پر ٹنگی بوری میں کچی اینٹیں گنتی کرکے رکھ رہے ہیں۔ اور پھر وہ گدھے سے کہتے ہیں: ’’چل…پھرّ…پھرّ…‘‘ اٹھیّا اور بوجھ لادے دو دوسرے گدھے وہاں سے ۵۰ میٹر دور بھٹّی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، جہاں ان اینٹوں کو آگ میں پکانے کے لیے اتارا جاتا ہے۔
کھنڈو کہتے ہیں، ’’بس ایک گھنٹے اور؛ اس کے بعد ہم آرام کریں گے۔‘‘ لیکن ابھی تو صبح کے ۹ ہی بجے ہیں! ہمارے چہرے کی حیرانی کو دیکھ کر وہ بتاتے ہیں: ’’ہم نے رات کو ایک بجے سے کام شروع کیا تھا۔ تب بالکل اندھیرا تھا۔ ہماری شفٹ صبح ۱۰ بجے ختم ہو جاتی ہے۔ رات بھر ہے اسنچ چالو آہے [ہم پوری رات کام کرتے رہے ہیں]۔‘‘
کھنڈو کی ٹکڑی کے چار گدھے بھٹی سے لوٹ آئے ہیں۔ ان کی پیٹھ کی بوریاں خالی ہو چکی ہیں۔ وہ دوبارہ اپنی گنتی شروع کرتے ہیں: ’’چودہ، سولہ، اٹھارہ…‘‘
پھر وہ اچانک آواز لگاتے ہیں، ’’رکو…‘‘ وہ اپنی ٹکڑی کے ایک گدھے کو ہندی میں حکم دیتے ہیں۔ وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہمارے مقامی گدھے مراٹھی سمجھتے ہیں، لیکن یہ نہیں سمجھتا۔ یہ راجستھان سے آیا ہے۔ ہمیں اسے ہندی میں آرڈر دینا ہوتا ہے۔‘‘ پھر وہ اس بات کا نمونہ دکھانے لگتے ہیں: رکو۔ گدھا وہیں ٹھٹھک کر رک جاتا ہے۔ چلو۔ وہ چلنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
اپنے چوپائے دوستوں کے تئیں کھنڈو کی محبت اس کے لیے فخر کی بات ہے۔ ’’لمبو اور پندھریہ گھاس چرنے گئے ہیں، اور میرا سب سے پیارا بلیٹ بھی۔ وہ لمبی اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ہی بہت پھرتیلی بھی ہے!‘‘
















