پیر کے دن صبح ۱۱ بجے، ۴۱ سالہ مونیشور مانجھی اپنے بغیر پلاسٹر والے، خستہ گھر کے باہر بچھی ایک چوکی (تخت) پر آرام کر رہے ہیں۔ مکان کے سامنے اس کھلی جگہ پر دھوپ سے بچنے کے لیے نیلے رنگ کی پولی تھین کی ایک چادر کو بانس کے ستونوں پر ٹانگا گیا ہے۔ لیکن، حبس سے انہیں کسی قسم کی راحت نہیں مل رہی ہے۔ پٹنہ شہر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور، کاکو قصبہ کے قریب موسہری ٹولہ میں رہنے والے مونیشور بتاتے ہیں، ’’پچھلے ۱۵ دنوں سے مجھے کوئی کام نہیں ملا ہے۔‘‘
دلتوں کی موسہر برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی اس رہائش گاہ، یعنی موسہری ٹولہ میں کل ۶۰ گھر ہیں۔ مونیشور اور اس ٹولہ میں رہنے والے دوسرے لوگ قریب کے کھیتوں پر کام کرکے یومیہ مزدوری کماتے ہیں، اور یہی ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ لیکن، مونیشور بتاتے ہیں کہ کام ہمیشہ نہیں ملتا۔ یہ صرف سال میں ۴-۳ مہینے ہی ملتا ہے، جب خریف اور ربیع کے موسم میں فصلوں کی بوائی یا کٹائی ہوتی ہے۔
پچھلی بار انہیں راجپوت برادری سے تعلق رکھنے والے ’بابو صاحب‘، یعنی زمیندار کے کھیت پر کام ملا تھا۔ زرعی کارکنوں کو ملنے والی یومیہ مزدوری کے بارے میں مونیشور بتاتے ہیں، ’’ہمیں آٹھ گھنٹے کام کرنے کے عوض ۱۵۰ روپے نقد یا ۵ کلو چاول ملتا ہے۔ بس اتنا ہی۔‘‘ نقد پیسہ نہ ملنے کی حالت میں ۵ کلو چاول کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی ملتا ہے – جس میں ۵-۴ روٹی، یا چاول اور دال، اور سبزی ہوتی ہے۔
حالانکہ اُن کے دادا کو ۱۹۵۵ میں بھودان تحریک کے دوران – جب زمینداروں نے اپنی زمین کا ایک حصہ عطیہ کر دیا تھا تاکہ اسے بے زمین لوگوں میں دوبارہ تقسیم کیا جا سکے – کھیتی کے لیے تین بیگھہ (تقریباً دو ایکڑ) زمین ملی تھی، لیکن وہ زمین کسی کام کی نہیں ہے۔ مونیشور کہتے ہیں، ’’ہم لوگ جہاں رہتے ہیں وہاں سے وہ زمین تین کلومیٹر دور ہے۔ ہم جب بھی اس پر کسی فصل کی بوائی کرتے ہیں، تو جانور اسے چر جاتے ہیں، جس سے ہمیں نقصان ہوتا ہے۔‘‘
اسی لیے، مونیشور کی فیملی اور اس ٹولہ پر رہنے والے دوسرے لوگ سال کے زیادہ تر دنوں میں مہوا دارو – مہوا کے پیڑ کے پھولوں سے بنی شراب (مدھوکا لونگی فولیا لیٹی فولیا) – بنا کر اور اسے بیچ کر اپنا گزارہ کرتے ہیں۔
حالانکہ، یہ ایک خطرناک بزنس ہے۔ بہار میں شراب یا نشہ آور چیزیں بنانے، انہیں رکھنے، فروخت کرنے یا ان کا استعمال کرنے پر سخت پابندی ہے – اسے روکنے کے لیے وہاں شراب بندی اور ایکسائز قانون، ۲۰۱۶ نافذ ہے۔ اور ’ملکی یا روایتی شراب‘ کے طور پر مشہور ’مہوا دارو‘ کو بھی اس قانون کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔










