’’میں اپنے پوتے/پوتیوں کے لیے آئی ہوں،‘‘ گنگوتائی چندر وارگھڑے کہتی ہیں، جن کی عمر تقریباً ۶۰ سال ہے۔ ’’شاید میرا چلنا ان کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔‘‘
گنگوتائی مہادیو کولی برادری، ایک درج فہرست ذات، کی ایک زرعی مزدور ہیں۔ وہ پال گھر کے منجوشی میٹا گاؤں میں رہتی ہیں، جو بنیادی طور پر مہاراشٹر کا ایک آدیواسی ساحلی ضلع ہے۔
ناسک میں بس اسٹینڈ سے ملحق ممبئی ناکہ پر، ایک درخت کے نیچے زمین پر بیٹھی وہ اور ان کے ساتھ مارچ میں شریک ہونے آئیں کئی دیگر خواتین اپنی بڑھتی پریشانیوں اور حکومت کی اندیکھی کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔
’’ہم اپنے نام پر زمین چاہتے ہیں،‘‘ گنگوتائی کہتی ہیں۔ دہائیوں سے، وہ اور کئی دیگر لوگ محکمہ جنگلات کی ملکیت والی زمین پر کھیتی کر رہے ہیں۔ تھانے، پال گھر، ناسک اور شمالی و ساحلی مہاراشٹر کے دیگر پڑوسی ضلعوں کے ہزاروں کنبے، ۲۰۰۶ کے حق جنگلات قانون (ایف آر اے) کے تحت ان زمینوں کے مالکانہ حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ انھیں سرکاری اسکیموں اور روایتی قرض تک رسائی بھی فراہم کرے گا۔ مہاراشٹر سرکار پچھلے سال کے تاریخی مارچ کے بعد ایف آر اے کو نافذ کرنے پر راضی ہو گئی تھی، لیکن اس نے اپنے وعدوں کو ابھی تک پورا نہیں کیا ہے۔
’’ہم ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں،‘‘ پال گھر کی ایک نوجوان کسان اور کارکن، تائی بینڈر ان مسائل کا شمار کرتے ہوئے کہتی ہیں جو ان کی اور ان کے گاؤں کے دیگر لوگوں کی فکرمندگی کا باعث ہیں۔ ’’ہمارے پانی کو ممبئی اور دیگر شہروں کی طرف موڑا جا رہا ہے، اس لیے ہم اس کے خلاف بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘







