کمل شندے کے دو کمرے کے گھر میں ۱۵۰ کلو چاول کی بوری، ۱۰۰ کلو گیہوں کے آٹے کی بوری، ۳۰ کلو آلو اور ۵۰ کلو پیاز جمع کیا گیا ہے۔ ’’یہ کھانا سبھی کے لیے ہے،‘‘ ۵۵ سالہ کمل بتاتی ہیں۔ ’’ہر آدمی آج کا اپنا کھانا لے کر چل رہا ہے اور باقی دنوں میں ہم راستے میں [سڑک کے کنارے] کھانا بنائیں گے۔‘‘
ان کے گاؤں کے تقریباً ۳۰-۴۰ کسانوں نے ان اجتماعی سپلائیز میں تعاون کیا ہے، جس کا استعمال ان کے ذریعے کل، یعنی ۲۰ فروری کو شروع کیے گئے مارچ کے دوران ان کا کھانا تیار کرنے میں کیا جائے گا، اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے ڈنڈوری تعلقہ کے کوآرڈی نیٹر، اپا وٹانے کہتے ہیں جو اس احتجاجی مظاہرہ کے بنیادی منتظم ہیں۔










