اننت پور میں پھولوں کی ایک مالا تقریباً ہر روز ڈاکٹر امبیڈکر کے مجسمہ کی شان بڑھاتی ہے۔ پھول بیچنے والے اے سبحان، صبح ساڑھے بجے، سیڑھیوں سے اوپر چڑھتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ذریعے سرخ گلاب اور نرگس کے پھولوں سے بنی مالا، سنہرے پینٹ والے مجسمہ کو پہناتے ہیں۔ سبحان یا ان کا ۱۷ سالہ بھتیجا، ببلو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ کام باقاعدگی سے ہوتا رہے۔
یہ روایت ۲۰۱۰ کے آس پاس شروع ہوئی، جب سڑک کے درمیان میں بنے ڈاکٹر امبیڈکر کے پرانے مجسمہ کو توڑ دیا گیا تھا اور اس کی جگہ ایک نیا مجسمہ لگایا گیا تھا۔ یہ مجسمہ آندھرا پردیش کے اننت پور شہر کے وسط میں واقع گھنٹا گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور جنوب میں ہے، سبحان کی پھولوں کی دکان سے پیدل دوری پر۔
پاس کے دیگر مجسمے اتنے خوش قسمت نہیں ہیں۔ اسی سڑک پر گھنٹا گھر پار کرنے کے بعد، پہلا مجسمہ اندرا گاندھی کا ہے۔ یہ اب جوٹ کے کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے، لیکن اس نے بھی اچھے دن دیکھے ہیں، جب آندھرا پردیش میں کانگریس کی حکومت تھی (۲۰۰۴ سے ۲۰۱۴ تک)۔ سال ۲۰۱۳ میں، آندھرا پردیش سے تلنگانہ کو الگ کیے جانے کی مخالفت میں احتجاجیوں نے پرانے مجسمہ کو توڑ دیا اور جلا دیا تھا۔ بعد میں ایک نیا مجسمہ نصب کیا گیا، لیکن یہ تبھی سے ڈھکا ہوا ہے۔ اسی سڑک پر کچھ دور آگے چل کر راجیو گاندھی کا مجسمہ ہے اور وہ بھی ڈھکا ہوا ہے۔ شاید یہ ریاست میں کانگریس پارٹی کے کمزور وجود کو ظاہر کرتا ہے۔







