’’چھتوں سے چوہے کا گرنا اور پھر ہمارے گھروں میں ہی ان کا مر جانا مجھے آج بھی یاد ہے۔ اتنا منحوس نظارہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ سن کر آج آپ کو ہنسی آ سکتی ہے، لیکن اُس زمانے میں جب چھتوں سے چوہے گرتے تھے تو ہمیں اپنا گھر چھوڑنا پڑتا تھا، اس بات سے انجان کہ ہم پتہ نہیں واپس کب لوٹ پائیں گے۔‘‘
یہ باتیں ہمیں اے کوڈندئی اَمّل نے بتائیں، جو کوئمبٹور کے کالپٹّی علاقے میں رہتی ہیں۔ ابھی اُن کی عمر ۸۰ سال سے زیادہ ہے، لیکن ۱۹۴۰ کے ابتدائی عشرے میں جب تمل ناڈو شہر میں طاعون کی بیماری پھیلی، تب وہ کافی چھوٹی تھیں۔
چیچک سے لے کر طاعون اور ہیضہ تک – کوئمبٹور کی تاریخ وبائی امراض سے بھری ہوئی ہے۔ یہ بیماریاں ویسے تو دیگر علاقوں میں بھی پھیلی ہوئی تھیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نے کوئمبٹور علاقے کو اپنا مرکز بنا رکھا تھا، کیوں کہ یہاں پر ’پلیگ ماری امّن‘ (جنہیں ’بلیک ماری امّن‘ بھی کہتے ہیں) کے نام سے بنائے گئے مندر آج بھی موجود ہیں۔ صرف اس شہر میں ایسے ۱۶ مندر ہیں۔
اور، ظاہر ہے، جب کووڈ۔۱۹ وبائی مرض نے دستک دی، تو یہاں ’کورونا دیوی‘ مندر بھی وجود میں آ گیا۔ لیکن جتنا مجمع پلیگ ماری امّن میں دیکھنے کو ملتا ہے، اتنا کہیں اور نہیں ملتا۔ پڑوس کے تریپور ضلع میں بھی ایسے کچھ مندر موجود ہیں، جہاں مختلف قسم کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔
سال ۱۹۰۳ سے ۱۹۴۲ کے درمیان، کوئمبٹور میں طاعون کی وبا کم از کم ۱۰ بار پھیلی، جس میں ہزاروں لوگوں کو موت ہوئی۔ اب اس بیماری کو ختم ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن یہاں کے لوگوں کی یادداشت سے یہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ کوڈندئی امّل جیسے بزرگوں کے سامنے جیسے ہی طاعون کا ذکر آتا ہے، ان کے ذہن میں اس سے جڑی یادیں فوراً تازہ ہو جاتی ہیں کہ کیسے اس شہر نے اس مصیبت کو جھیلا تھا۔
شہر کے بھیڑ بھاڑ والے ٹاؤن ہال علاقے میں موجود مندروں میں سے شاید سب سے مشہور پلیگ ماری امّن مندر کے باہر بیٹھی ہوئی کانمّل (جن کی عمر ۴۰ سال سے زیادہ ہے)، شام کو پھول بیچنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ پھولوں کو بڑی نزاکت سے دھاگے میں پرونے کے کام پر اپنی نظریں مرکوز کرتے ہوئے، وہ بتاتی ہیں، ’’آج جمعہ کا دن ہے۔ اس لیے، کافی لوگ آئیں گے۔‘‘ انہیں اتنی بھی فرصت نہیں ہے کہ وہ بات کرتے وقت اپنی نظریں میری طرف اٹھا کر دیکھ سکیں۔
’’وہ (دیوی) طاقتور ہیں۔ آج بھلے ہی ہمارے یہاں کورونا دیوی کا مندر بن گیا ہو، لیکن بلیک ماری امّن ان [طاقتور دیویوں] میں سے ایک ہیں۔ ہم ان کی پوجا کرتے رہیں گے، خاص کر بیمار پڑنے پر، لیکن دوسری قسم کی عام پوجا کے لیے بھی۔ ’عام پوجا‘ سے ان کی مراد خوشحالی، کامیابی اور لمبی عمر کے لیے کی جانے والی دعا ہے، جو عقیدت مندوں کی عام خواہش ہوتی ہے۔ کانمّل، طاعون کا خاتمہ ہونے کے تقریباً چالیس سال بعد پیدا ہوئی تھیں۔ لیکن اُن کی نسل کے بھی کئی لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے بڑی تعداد میں ماری امّن آتے ہیں۔












