سردی کی دوپہری میں، جب کھیتوں کے کام ختم ہو جاتے ہیں اور گھر کے نوجوان اپنی اپنی نوکریوں پر چلے جاتے ہیں، تب ہریانہ کے سونی پت ضلع میں ہرسانا کلاں گاؤں کے مرد چوپال (گاؤں کے چوراہے) پر پہنچ جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر تاش کھیلتے ہیں یا پھر سایہ میں آرام کرتے ہیں۔
عورتیں وہاں کبھی نظر نہیں آتیں۔
’’عورتیں یہاں کیوں آئیں؟‘‘ مقامی باشندہ، وجے منڈل سوال کرتے ہیں۔ ’’انہیں اپنے کام سے چھٹی نہیں ملتی۔ وہ کیا کریں گی ان بڑے آدمیوں کے ساتھ بیٹھ کر؟‘‘
دہلی سے مشکل سے ۳۵ کلومیٹر دور اور قومی راجدھانی خطہ میں پڑنے والے، تقریباً ۵ ہزار کی آبادی والے اس گاؤں کی عورتیں چند سال پہلے تک سختی سے پردہ کرتی تھیں، یعنی عورتوں کو اپنا چہرہ اور جسم ڈھکنا پڑتا تھا۔
’’عورتیں تو چوپال کی طرف دیکھتی بھی نہیں تھیں،‘‘ منڈل کہتے ہیں۔ گاؤں کے تقریباً درمیان میں واقع یہ میٹنگ کی جگہ ہے، جہاں جھگڑے کے نمٹارہ کے لیے پنچایت بیٹھتی ہے۔ ’’پہلے کی عورت سنسکاری (مہذب) تھی،‘‘ ہرسانا کلاں کے سابق سرپنچ، ستیش کمار کہتے ہیں۔
’’ان کے اندر لاج شرم تھی،‘‘ منڈل کہتے ہیں، ’’اگر اتفاق سے انہیں چوپال کی طرف جانا بھی ہوا، تو وہ پردہ کر لیتی تھیں،‘‘ وہ اپنے چہرے پر مسکان لیے کہتے ہیں۔
۳۶ سال کی سائرہ کے لیے یہ سب نیا نہیں ہے۔ وہ ان میں سے اکثر فرمانوں کو گزشتہ ۱۶ برسوں سے مان رہی ہیں، جب ۲۰ سال کی عمر میں شادی کرکے وہ دہلی کے قریب واقع اپنے گاؤں، مجرا ڈباس سے یہاں آئی تھیں۔ مردوں کے برعکس، انہیں صرف ان کے پہلے نام سے پکارا جاتا ہے۔
’’اگر میں اپنے شوہر سے شادی سے پہلے ملی ہوتی، تو اس شادی کے لیے کبھی حامی نہیں بھرتی۔ اس گاؤں میں تو کَتّے نا آتی [یعنی اس گاؤں میں آنے کے لیے کبھی راضی نہیں ہوتی]،‘‘ سائرہ کہتی ہیں، جب کہ ان کی انگلیاں سلائی کی مشین کی سوئی اور اس پیلے کپڑے کے درمیان مہارت سے چل رہی ہے جس پر وہ کام کر رہی ہیں۔ (اس اسٹوری میں ان کا نام، اور ان کے تمام اہل خانہ کے نام بدل دیے گئے ہیں۔)











