راجیش اندھارے کو اپنی زندگی میں پہلی بار اسمارٹ فون پکڑنے کے لیے ۲۵۰۰ روپے کا ڈاؤن پیمنٹ کرنا پڑا۔ لیکن دو سال گزر جانے کے بعد بھی وہ اسے چلا نہیں سکتے۔ ’’یہ میرے بڑے بیٹے، دنیش کے لیے ایک تحفہ تھا، جو اسکول سے پاس ہو گیا تھا،‘‘ ۴۳ سالہ راجیش کہتے ہیں۔ ’’ہم نے بقیہ رقم کی ادائیگی ۱۰۰۰ روپے کی پانچ قسطوں میں کی۔ فون کی قیمت تقریباً ۷۵۰۰ روپے تھی۔‘‘
اسمارٹ فون ۱۶ سالہ دنیش کے پاس ہے، لیکن مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے ڈونگری گاؤں میں اپنے گھر پر، راجیش نے بھی اس کا استعمال کرنے کی کوشش کی – بنا کسی کامیابی کے۔
اس فون کی قیمت اتنی ہی ہے جتنی راجیش موٹے طور پر ایک مہینہ مزدوری کرکے کماتے ہیں – یومیہ ۲۵۰-۳۰۰ روپے کے درمیان۔ ’’میں نے اسے چلانا سیکھنے کی کوشش کی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن کچھ دنوں کے بعد میں نے ہار مان لی۔ میں اپنے پرانے فون کے ساتھ ہی ٹھیک ہوں، جس میں اچھا کی- پیڈ ہے۔‘‘
ان کے بیٹے کی نسل، تلاسری تعلقہ – جہاں کی اکثریتی آدیواسی آبادی کے زیادہ تر کنبے کم آمدنی والے ہیں – کے سخت علاقے اور مشکل حالات میں بھی اسمارٹ فون کا استعمال کرنے میں کہیں زیادہ ماہر ہے۔ لیکن لاگت اور کنیکٹیوٹی دونوں سے کمزور ہے۔
گجرات کی سرحد پر واقع یہ آدیواسی علاقہ ممبئی سے صرف ۱۳۰ کلومیٹر دور ہے – لیکن یہاں انٹرنیٹ کا کنیکشن بہت خراب ہے۔ ’’بجلی کی سپلائی بھی رک رک کر ہوتی ہے، خاص کر مانسون کے دوران،‘‘ وارلی درج فہرست قبیلہ سے تعلق رکھنے والے راجیش کہتے ہیں۔
اس لیے اگر آپ کو ڈونگری میں لڑکوں کا کوئی گروپ درخت کے نیچے بیٹھا ہوا نظر آئے، تو سمجھ جائیے کہ اس جگہ پر کچھ حد تک نیٹ ورک آ رہا ہے۔ گروپ میں ایک یا دو کے پاس اسمارٹ فون ہوگا، جب کہ باقی تجسس سے اسے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور ہاں، وہ لڑکے ہوں گے۔ یہاں ایسی لڑکیوں کو ڈھونڈ پانا مشکل ہے، جن کے پاس اسمارٹ فون ہو۔









