میں نے الیا راجا سے پوچھا، ’کیا یہاں سانپ ہیں؟‘

شام ڈھل چکی تھی اور ہم تمل ناڈو کے شیو گنگا ضلع کے میلکاڈو گاؤں میں ایک کھیت میں کھڑے تھے۔ میں وہاں کنویں کی کھدائی کرنے والے مزدوروں سے ملنے گئی تھی۔ پورا علاقہ خشک تھا اور گرد و غبار سے بھرا ہوا تھا، اور کھیتی کے لیے پانی ڈھونڈنا اپنے آپ میں ایک مشقت بھرا کام تھا۔ الیا راجا وہیں رہتے تھے۔ وہ ایک پرائیویٹ فارم (نجی کھیت، جس میں کمپنیوں کا سرمایہ لگا ہوتا ہے) پر جز وقتی کام کرتے تھے، اور باقی وقت اپنے والدین کے کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ یعنی وہ دن میں دو الگ شفٹ میں کام کرتے تھے۔ اور ان کی عمر ابھی صرف ۲۳ سال ہے۔

میری آواز میں تشویش کو بھانپ کر الیا راجا مسکرانے لگے اور بتایا کہ کچھ ہی دن پہلے ’ناگ راج‘ (کوبرا) اس علاقے میں آئے تھے۔ جیسے ہی میں نے ٹہلنے کا خیال چھوڑنے کی بات کہی، الیا راجا نے فوراً ٹارچ نکال لیا۔

انہوں نے کہا، ’’میں آپ کے ساتھ چلوں گا‘‘ اور پھر ہم ساتھ چلنے لگے۔ ہمارے پیر ٹارچ کی روشنی سے بنے دائرے میں چل رہے تھے اور ہمارے چہروں پر رات کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے لگ رہے تھے۔

ہوا میں بارش سے بھیگی مٹی کی خوشبو تیر رہی تھی۔ دھوپ سے تپتے دن کے بعد یہ ایک ٹھنڈ بھری رات تھی۔ مینڈکوں کی آواز کے علاوہ مجھے صرف الیا راجا کے سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ انہوں نے مسکراتے چہرے کے ساتھ مجھ سے کہا، ’’مجھے ہمیشہ سے دمّہ تھا۔‘‘ حالانکہ، وہ مہاجر ہیں، مگر وہ شیو گنگا کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ جب وہ بہت چھوٹے تھے، تو ان کی فیملی سیلم سے یہاں آ کر آباد ہو گئی تھی۔ وہ سڑک کے ہر موڑ، روڈ پر چلتی موٹر بائک اور انہیں چلانے والے لوگوں کو اچھی طرح جانتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’۲۳ سال پہلے یہاں کی زمین بہت سستی تھی۔ میرے والدین نے سلیم میں اپنی جائیداد بیچی، اور میرے والد اور ان کے بھائیوں نے یہاں ۵۰ ہزار روپے میں دس ایکڑ زمین خرید لی تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ اب ہم فی ایکڑ ۳ لاکھ سے ۴ لاکھ کی کمائی کر لیتے ہیں؟‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے ٹارچ والا اپنا ہاتھ دائیں بائیں گھمایا، جس سے روشنی کے دائرے میں ساگو دانہ (ٹیپیئوکا) اور گنے کے کھیت نظر آنے لگے۔

PHOTO • Aparna Karthikeyan

’’پہلے یہ جھاڑیوں سے بھرا گھنا جنگل تھا۔ میری فیملی نے اسے اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔ آپ کو اس ٹیوب لائٹ کے نیچے وہ کنواں دکھائی دے رہا ہے؟ وہ میرے چِتپّا (چچا) کا ہے۔ اور اس کے پیچھے، وہ گھر نظر آ رہا ہے؟ جو ان ناریل کے درختوں کے پیچھے چھپا ہے؟ وہ میرا گھر ہے!‘‘

انہوں نے بڑے فخر سے ’میرا گھر‘ کہا تھا۔ یہ پکّا مکان تھا، جس میں بجلی موجود تھی جو نو سال پہلے یہاں آئی تھی۔ وقت کے ساتھ بہت تیزی سے جدیدیت نے بھی یہاں بسیرا کر لیا تھا۔ انہوں نے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جیب کو تھپتھپاتے ہوئے کہا، ’’آپ کو یہاں کہیں پر بھی بیل اور ہل نہیں دکھائی دے گا! اور نہ ہی کوئی لینڈ لائن ٹیلی فون نظر آئے گا؛ صرف موبائل دکھائی دے گا۔‘‘

ان تمام چیزوں نے دیہی زندگی کو شاید بدل دیا ہوگا – جس کے لیے شہری لوگ ترستے ہیں – لیکن جدیدیت کے ساتھ الیا راجا بہت خوش تھے۔ اس سے ان کی زندگی آسان ہو گئی۔ وہ کہتے ہیں، ’’پہلے ہم گنے کو ہاتھ سے کاٹتے تھے۔ اب، ایک مشین فصل کو کاٹتی ہے، اور دوسری اسے اکٹھا کرتی ہے۔ اور ان سب میں زیادہ وقت نہیں لگتا!‘‘ ان نئی مشینوں کی وجہ سے محنت اور وقت کی جو بچت ہوتی ہے اس کی وہ تعریف کرتے ہیں۔ ان تمام سہولیات کے آنے سے پہلے، بہت کم عمر میں ہی انہوں نے کھیتوں میں کافی محنت اور وقت لگایا تھا۔

PHOTO • Aparna Karthikeyan

حالانکہ، ایسا بھی نہیں ہے کہ اب ان کی صبح کسی آرامدہ کرسی پر اخبار پڑھتے ہوئے اور کافی پیتے ہوئے گزرتی ہو۔ وہ پودوں کے درمیان جا کر اور جھک کر انہیں توڑتے، چھانٹتے اور ان کی صفائی کرتے ہیں۔ وہ اور ان کی فیملی دھان، سبزیوں اور پھولوں کی کھیتی کرتے ہیں۔ ’’بھنڈی اور بینگن، دونوں کو روز توڑنا پڑتا ہے۔ بینگن کو کم از کم ایک یا دو دن پودے میں چھوڑ سکتے ہیں، لیکن بھنڈی کو نہیں… یہ بہت جلد سخت ہو جاتی ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ ہنستے ہیں، اور ان کے ساتھ میں بھی ہنس پڑتی ہوں۔ میں بھنڈی کے ٹیسٹ کے بارے میں سوچنے لگتی ہوں، جس سے بیچنے والے کو نفرت ہے اور خریدار کو پسند ہے (بھنڈی کو اوپر سے توڑنا؛ اگر یہ ٹھیک سے نہیں ٹوٹتی ہے، تو بیکار ہے!)

اس کے بعد، پیداوار (ہر سبزی کا کچھ کلو) کو بیچ دیا جاتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میرے والد روزانہ میری ماں کو اپنی دوپہیہ گاڑی سے بازار لے جاتے ہیں۔ وہ انہیں وہاں چھوڑ کر خود کھیت پر چلے جاتے ہیں۔ سب کچھ فروخت ہو جانے کے بعد میری ماں مشترکہ سواری والے آٹو سے گھر واپس آ جاتی ہیں۔‘‘ اور جب تک ان کی ماں واپس آتی ہیں، تب تک الیا راجا دن کی دوسری شفٹ کے کام میں آدھا دن گزار چکے ہوتے ہیں۔ اس دوران، وہ مختلف قسم کے دوسرے باہری کام نمٹاتے ہیں۔ شام ۶ بجے، جب تک وہ گھر آتے ہیں، تب تک مویشیوں کو چارہ ڈال کر گایوں کا دودھ نکالا جا چکا ہوتا ہے۔

یہاں کے زیادہ تر لوگ گائے، بکریاں اور مرغیاں پالتے ہیں۔ اس علاقے میں گائیں زیادہ تر جرسی/مخلوط نسل کی ہوتی ہیں، کیوں کہ وہ بہت زیادہ دودھ دیتی ہیں، بشرطیہ انہیں تازہ گھاس، تلہن کی کھَلی جیسا اچھا کھانا ملتا رہے۔ لیکن یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہو پاتا۔

PHOTO • Aparna Karthikeyan

یہاں اکثر بارش نہیں ہوتی۔ الیا راجا نے سمجھاتے ہوئے مجھے بتایا، ’’یہاں کی مٹی بہت اچھی ہے، سب کچھ اچھی طرح اگتا ہے۔ مسئلہ پانی کا ہے۔ دیکھئے نا، میرے چچا کے ۶۰ فٹ گہرے کنویں میں صرف چار فٹ پانی ہے۔ اس لیے، ہم اس کا استعمال پانی جمع کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ بورویل سے پانی نکالا جاتا ہے۔ یہاں پر ۸۰۰ سے ۱۰۰۰ فٹ کی گہرائی تک بورویل کی کھدائی ہوتی ہے…‘‘ میں نے ان اعداد و شمار کو سمجھنے کی کوشش کی: ایسا کرنا کافی مشکل تھا۔

خالی پڑے کھیت دیکھ کر اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ کچھ سال پہلے، اچھی بارش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر دھان کی بوائی ہونے لگی تھی، فصل بہت اچھی ہوئی تھی۔ لیکن پچھلے دو سالوں میں بہت کم بارش ہوئی، اور گرتی ہوئی آبی سطح کے سبب زمین کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ پھر بھی، لوگوں نے گنا اُگانا شروع کیا ہے اور ڈرپ سینچائی کے ساتھ کھیتی شروع ہوئی ہے۔ یہ کسی بڑے المیہ سے کم نہیں۔ اس بحث کو الیا راجا نے ’’میں کیا کر سکتا ہوں‘‘ کی مسکراہٹ سے خارج کر دیا۔

رات ہو چکی تھی، آسمان میں تارے ٹمٹما رہے تھے، اور سڑکوں کو ناپ رہی موٹر سائیکلیں اپنے اپنے گھر جا چکی تھیں۔ ہم واپس مڑے، اور گنے اور ساگو دانہ کے کھیتوں اور ان کے چچا کے کنویں کے پاس سے ہوتے ہوئے گزرے۔ ہوا ٹھنڈی تھی، اور اس کے ساتھ ایک پیاری خوشبو تیر رہی تھی۔ میں نے سانس اندر کھینچی، ’ہوں‘ اور فاتحانہ انداز میں ان کی طرف مڑی، اور ان سے پوچھا کہ یہ ہلدی کا کھیت ہے نا، جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ ’’ہاہا،‘‘ ان کی ہنسی پھوٹ پڑی، اور ٹارچ کی سفید روشنی اوبڑ کھابڑ روڈ پر ادھر ادھر بھٹکنے لگی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہوا میں کوئی خوشبو نہیں، حشرہ کش کی بو ہے، جس کا ہم نے صبح ہی چھڑکاؤ کیا ہے!‘‘

PHOTO • Aparna Karthikeyan

مترجم: محمد قمر تبریز

Aparna Karthikeyan

अपर्णा कार्तिकेयन एक स्वतंत्र पत्रकार, लेखक, और पारी की सीनियर फ़ेलो हैं. उनकी नॉन-फिक्शन श्रेणी की किताब 'नाइन रुपीज़ एन आवर', तमिलनाडु में लुप्त होती आजीविकाओं का दस्तावेज़ है. उन्होंने बच्चों के लिए पांच किताबें लिखी हैं. अपर्णा, चेन्नई में परिवार और अपने कुत्तों के साथ रहती हैं.

की अन्य स्टोरी अपर्णा कार्तिकेयन
Translator : Qamar Siddique

क़मर सिद्दीक़ी, पीपुल्स आर्काइव ऑफ़ रुरल इंडिया के ट्रांसलेशन्स एडिटर, उर्दू, हैं। वह दिल्ली स्थित एक पत्रकार हैं।

की अन्य स्टोरी Qamar Siddique