جب میں گاندھی نگر اور الگ پوری پہنچا، تو وہاں ایک بے چین اور بھاری بھیڑ موجود تھی۔ ان دو دلت (درج فہرست ذات) گاؤوں کے درمیان صرف ایک سڑک حائل ہے۔ اس دن وہاں پولیس اہلکاروں اور ان کی گاڑیوں کی بھاری نفری موجود تھی۔ شیو کاشی قصبہ کی کنشک فائر ورکس کمپنی میں آتشزدگی کے حادثہ میں ۱۴ مزدوروں کی دردناک موت کی خبر نے یہاں مقامی برادری کو کافی جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ صرف گاندھی نگر گاؤں میں چھ موتیں ہوئیں، اور مرنے والے سبھی افراد کا تعلق دلت برادری سے تھا۔
حادثہ کے شکار اپنے عزیزوں کے لیے لوگ سڑکوں پر ماتم کر رہے تھے۔ کچھ فون پر تھے اور دوسرے قصبوں اور ویرودھو نگر ضلع کے دوسرے گاؤوں میں رشتہ داروں کو اطلاع دے رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد بھیڑ شمشان کی جانب بڑھنے لگی۔ میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ پورا گاؤں باہر نکل آیا تھا۔ وہ گاؤں کے چھ مزدوروں کو الوداع کہنے شمشان کی جانب گامزن تھے، جن کی موت ۱۷ اکتوبر، ۲۰۲۳ کو ہوئے حادثہ کے دوران ہو گئی تھی۔ جلی ہوئی لاشوں کو ہٹانے کا انچارج ایک فائر فائٹر پوسٹ مارٹم میں پیش آنے والی دشواری کی وضاحت کر رہا تھا۔
آخرکار، رات میں تقریباً ساڑھے آٹھ بجے جیسے ہی چھ ایمبولینس شمشان میں داخل ہوئیں، چیخ و پکار کرتا ہجوم ان کی طرف دوڑ پڑا۔ ایک لمحہ کے لیے میں اپنا کام بھول گیا۔ مجھے اپنا کیمرہ نکالنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ شمشان رات کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور روشنی کے گرد اڑتے پروانے ایسے لگ رہے تھے جیسے گاؤں والوں کی طرح وہ بھی وہاں اکٹھے ہو گئے ہوں۔
جیسے ہی لاشوں کو باہر نکالا گیا بھیڑ پیچھے ہٹ گئی – جلی ہوئی لاشوں کی بدبو ناقابل برداشت تھی۔ بعض کو ابکائیاں آنے لگیں۔ لاشوں کی شناخت صرف اس لیے ہو سکی، کیونکہ ان پر مرنے والوں کے نام کا لیبل لگا ہوا تھا۔ جب بھیڑ چھٹ گئی تو شمشان تنہا رہ گیا۔






























