’’پہلے ہی دن مجیدن نے میرے ہاتھ پر زوردار چپت لگائی تھی،‘‘ ۶۵ سالہ قرسید بیگم اُس دن کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ان کے بغل میں بیٹھی مجیدن بیگم اس پرانی کہانی کو سن کر ہنسنے لگتی ہیں، اور وقت ضائع کیے بغیر اپنا دفاع کرنے لگتی ہیں۔ ’’قرسید کو شروع شروع میں بالکل معلوم نہیں تھا کہ دھاگوں کے ساتھ کیسے کام کیا جاتا ہے۔ میں نے اسے صرف ایک بار چپت لگائی تھی،‘‘ وہ کہتی ہیں اور ساتھ ہی یہ کہنا نہیں بھولتی ہیں، ’’اس کے بعد اس نے تیزی سے یہ کام سیکھا۔‘‘

پنجاب کے بھٹنڈا ضلع کے گھندا بانا کی یہ دونوں بزرگ خواتین – مجیدن اور قرسید اپنے ہاتھ سے بُنی گئی باریک اور خوبصورت دریوں کے لیے مشہور ہیں۔ انہیں وہ کپاس، جوٹ اور یہاں تک کہ پرانے کپڑے سے بھی بُنتی ہیں۔

’’میں نے مجیدن سے دریاں بُننے کا کام جب سیکھا، تو اُس وقت میری عمر ۳۵ سال تھی،‘‘ قرسید بتاتی ہیں۔ ’’تب سے ہم دونوں یہ کام ایک ساتھ کر رہے ہیں،‘‘ ۷۱ سالہ مجیدن کہتی ہیں۔ ’’یہ اکیلے ایک آدمی کا کام ہے بھی نہیں، بلکہ اس میں دو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ جوڑی، جو دو سگے بھائیوں سے شادی ہونے کے سبب ایک دوسرے کی رشتہ دار بھی ہیں، خود کو ایک دوسرے کی بہنیں اور فیملی کی رکن مانتی ہیں۔ ’’ہم خود کو سگی بہنیں مانتی ہیں،‘‘ قرسید کہتی ہیں۔ مجیدن بھی اپنی طرف سے جوڑنا نہیں بھولتیں، ’’حالانکہ ہماری عادت بالکل الگ ہے۔‘‘ بات کو واضح کرتے ہوئے قرسید فوراً بولتی ہیں، ’’یہ ایک دم دو ٹوک بولتی ہے…صاف اور منہ پر، میں تھوڑا خاموش رہتی ہوں۔‘‘

دریاں بُننے کے علاوہ مجیدن اور قرسید دوسرے کے گھروں میں بھی کام کرتی ہیںا ور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لیے مہینہ میں چند ہزار روپے کما لیتی ہیں۔ دونوں ہی کام کڑی محنت کا ہے، خاص کر یہ دیکھتے ہوئے کہ اب ان کی عمر بھی اچھی خاصی ہو گئی ہے۔

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

بھٹنڈا ضلع کے گھندا بانا گاؤں کی مجیدن بیگم (بائیں) اور ان کی دیورانی قرسید بیگم (دائیں) باریک اور خوبصورت بُنائی والی دریوں کے لیے مشہور ہیں، جنہیں وہ سوت، جوٹ اور یہاں تک کہ پرانے کپڑوں سے بھی بُنتی ہیں۔ ’دری بنانے کا کام میں نے مجیدن سے سیکھا۔ تب میری عمر ۳۵ سال ہو چکی تھی،‘ ۶۵ سالہ قرسید بتاتی ہیں۔ ’ہم تبھی سے ایک ساتھ دری بنانے کا کام کر رہے ہیں،‘ ۷۱ سالہ مجیدن کہتی ہیں۔ ’یہ اکیلے آدمی کا کام ہے بھی نہیں۔ اس میں دو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے‘

عید کی حبس بھری صبح کو مجیدن دھندا بانا گاؤں کی تنگ گلیوں سے قرسید کے گھر کی طرف جا رہی ہیں۔ ’’اس گاؤں میں تمام گھروں کے دروازے میرے لیے ہمیشہ کھلے ملیں گے،‘‘ وہ فخر سے کہتی ہیں۔ ’’آپ اسی سے سمجھ سکتی ہیں کہ گزشتہ برسوں میں، میں نے کتنا کام کیا ہوگا۔‘‘

ان کی شہرت گاؤں کے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ دور دراز کے لوگ مجیدن کے پاس صرف یہ معلوم کرنے کے لیے اپنا آدمی بھیجتے ہیں کہ کیا وہ دونوں ان کے لیے دری بُن سکتی ہیں۔ ’’لیکن پھول، دھپالی اور رامپور پھول جیسے پڑوس کے گاؤوں کے لوگ ہمارے گھر سیدھے بھی پہنچ جاتے ہیں،‘‘ مجیدن کہتی ہیں۔

جب کچھ مہینے پہلے (اپریل ۲۰۲۴) پاری نے ان سے ملاقات کی، تب دونوں کاریگر ایک پھُلکاری دری کی بُنائی کر رہی تھیں۔ وہ دری گھندا بانا کے ہی ایک رہائشی کے لیے بنائی جا رہی تھی اور اس پر ایک پھول کی کشیدہ کاری کی جا رہی تھی۔ وہ فیملی اُس دری کو اپنی بیٹی کو بطور تحفہ دینا چاہتی تھی، جس کی جلد ہی شادی ہونے والی تھی۔ ’’یہ دری اس کی داج [جہیز کا سامان] ہے،‘‘ مجیدن نے بتایا تھا۔

ان پھولوں کی کشیدہ کاری گاہکوں کے ذریعہ دیے گئے دو الگ الگ رنگ کے دھاگوں سے کی گئی ہے۔ ’’پھولوں والا ڈیزائن بُنتے وقت ہم بیچ بیچ میں متعدد رنگوں کے دھاگوں کی بھرنی یا بانا ڈالتے ہیں،‘‘ سفید تانا کے ۱۰ دھاگوں کو اٹھا کر درمیان سے ایک پیلے رنگ کے بانے یا بھرنی کو گزارتی ہوئی مجیدن کہتی ہیں۔ ایک نیلی بھرنی کے لیے بھی یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ پھر تھوڑی سی جگہ چھوڑنے کے بعد وہ یہی کام دہراتی ہیں، لیکن اس بار انہیں سبز اور سیاہ دھاگوں کا پھول بنانا ہے۔

’’جب پھول بن کر تیار ہو جائیں گے، تب ہم دری کو ایک فٹ کی چوڑائی تک صرف لال بھرنی کے ساتھ بُن لیں گے،‘‘ مجیدن بتاتی ہیں۔ ان کے پاس دری کو ناپنے کے لیے کوئی ٹیپ نہیں ہے، اس کی جگہ مجیدن اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتی ہیں۔ کام کی شروعات سے ہی مجیدن اور قرسید یہی طریقہ اپناتی رہی ہیں، کیوں کہ دونوں میں سے کسی نے بھی اسکول کا چہرہ تک نہیں دیکھا ہے۔

جس وقت دونوں ہاتھس [کنگھے] کا استعمال کرتے ہوئے بھرنی کے دھاگوں کو اپنی جگہ پر منظم کر رہی ہیں، اسی وقت مجیدن کہتی ہیں، ’’میرے دماغ میں ڈیزائن تیار رہتا ہے۔‘‘ ابھی تک انہوں نے جتنی دریاں بُنی ہیں، ان میں ایک مور کی شکل والی اور دوسری ۱۲ پریوں والی دریوں کا تذکرہ وہ بڑے فخر سے کرتی ہیں۔ ان دریوں کو دونوں نے اپنی اپنی بیٹی کو داج میں دینے کے لیے بنایا تھا۔

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

مجیدن ایک گاہک کے لیے پھول کی کشیدہ کاری والی ایک پُھلکاری دری بنا رہی ہیں۔ ’جب ہم پھول کے ڈیزائن والی ان دریوں کو بناتے ہیں، تو ہم ان کے بیچ میں بھرنی کے لیے الگ الگ رنگ کے دھاگوں کا استعمال کرتے ہیں،‘ تانا کے دس سفید دھاگوں کے درمیان سے پیلی بھرنی کے ایک دھاگے کو نکالتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔ پھر یہی طریقہ نیلی بھرنی کے لیے بھی اپنایا جاتا ہے

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

بائیں: دونوں خواتین بُنکر ہاتھس [کنگھے] کی مدد سے بھرنی کے دھاگوں کو اپنی جگہ پر منظم کرتی ہوئیں۔ دائیں: لکڑی کے ایک ڈنڈے پر لال سوت کو لپیٹتے ہوئے مجیدن۔ ان سوتوں کو وہ بھرنی یا بنانا کے طور پر استعمال کریں گی۔ ساتھ میں قرسید اپنی پوتی منت کے ساتھ ۱۰ فٹ کے ایک لوہے کے فریم پر کام کر رہی ہیں، جس پر ان کو دری بنانی ہے

*****

مجید کے پختہ مکان میں ان کے کام کرنے کی جگہ یہ بتاتی ہے کہ وہ اپنے کام کی باریکیوں کے بارے میں کتنی بیدار اور لگن والی ہیں۔ اس کمرے میں ان کا ۱۰ سالہ پوتا عمران خان بھی ان کے ساتھ رہتا ہے اور ان کے کام میں ہاتھ بٹاتا ہے۔ تقریباً ۱۴ ضرب ۱۴ فٹ کے اس کمرے کی زیادہ تر جگہ ۱۰ فٹ لمبے لوہے کے ایک فریم اور کپڑوں سے بھرے ایک بڑے سے اسٹیل کے بکسے نے گھیر رکھی ہے۔ کچھ دوسرے گھریلو سامان بھی یہیں پڑے ہیں۔ روشنی کے لیے کمرے میں صرف ایک بلب لگا ہے، لیکن مجیدن اور قرسید معقول روشنی آنے کے لیے درازہ سے آنے والی دھوپ پر منحصر ہیں۔

وہ اپنا کام تانوں – یعنی عمودی دھاگوں کو تقریباً ۱۰ فٹ کے لوہے کے فریم میں لپیٹنے سے شروع کرتی ہیں۔ ’’دریوں کی بُنائی میں سب سے پیچیدہ اور مشکل کام تانے کو لپیٹنا ہی ہے،‘‘ مجیدن بتاتی ہیں۔ ایک لوہے کی بیم میں تانے کو لمبائی میں پوری کساوٹ کے ساتھ لپیٹنا ہوتا ہے۔

دونوں بُنکر لوہے کے فریم سے اونچے بنے پٹرے پر بیٹھتی ہیں جو اس ٹیپیسٹری [با تصویر دری] کو سہارا دیتا ہے جسے وہ بُننے کی تیاری میں ہیں۔ یہ کام ہیڈل کو چلانے کے ساتھ شروع ہوتا ہے – ہیڈل ایک ڈنڈی ہوتی ہے جو بُنائی کو تیز اور آسان بنانے کا کام کرتی ہے۔ یہ کرگھے کے شیڈ کو کھولتی اور بند کرتی ہے۔ شیڈ کا کام تانے کی سوتوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ہے۔ دری کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے لیے یہ ایک ضروری کام ہے۔

دونوں خواتین ایک دوسرے سے بانا یا بھرنی کے افقی دھاگوں کو تانا کے ذریعہ بدلتی رہتی ہیں۔ اس کے لیے ایک لکڑی کی چھڑی نما چیز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس محنت کا نتیجہ ایک خوبصورت ڈیزائن کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ مجیدن ان تصویروں کو جنہیں وہ ’’اپنے دماغ میں پیدا ہوئے خیالات کی بنیاد پر بنا ہوا‘‘ بتاتی ہیں، کو بُننے کے لیے تانا کو لپیٹتی ہیں۔ ایسا کوئی پیٹرن نہیں ہے جس کی نقل کر کے وہ ان ڈیزائنوں کو دوبارہ بنا سکیں۔

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

دونوں خواتین لوہے کے فریم کے اوپر رکھے لکڑی کے ایک پٹرے پر بیٹھتی ہیں جو اس ٹیپیسٹری (باتصویر دری) کو سہارا دیتی ہیں جسے وہ بنانے والی ہیں۔ وہ تانا عمودی دھاگوں کو تقریباً ۱۰ فٹ کے لوہے کے ایک فریم پر لپیٹنے کے ساتھ اپنا کام شروع کرتا ہے۔ اس فریم کو مقامی زبان میں ’اڈہ‘ کہتے ہیں اور ان کا استعمال با تصویر دری بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ’دری بُننے کے کام میں تانے کو لپیٹنا سب سے پیچیدہ اور مشکل کام ہے‘

مشکل دکھائی دینے والا یہ کام اب پہلے کے مقابلے آسان ہو گیا۔ ’’اس سے پہلے ہم زمین میں چار لوہے کی بڑی کیلیں چاروں کونوں میں ٹھونکتے تھے۔ اس کے بعد ہم ان پر لکڑی کے لٹھ رکھ کر ایک فریم بناتے تھے اور تب بُنائی کرنے کے لیے ان کے چاروں طرف تانا لپیٹتے تھے،‘‘ قرسید بتاتی ہیں۔ ’’اس اڈے کی طرح آپ اسے اٹھا کر دوسری جگہ نہیں لے جا سکتے تھے،‘‘ مجیدن کہتی ہیں۔ اس لیے وہ اپنی سہولت کے مطابق اس کی جگہ کو بدلتی رہتی ہیں، ’’ہم اسے کھینچ کر آنگن میں لے جاتے ہیں۔‘‘

دونوں خواتین کو اپنے کنبوں سے کوئی زیادہ اقتصادی مدد نہیں ملتی ہے۔ مجیدن کے چھوٹے بیٹے ریاست علی ٹرک ڈرائیور تھے، لیکن اب وہ ایک گوشالہ میں ۵۰۰ روپے کی دہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ ان کے سب سے بڑے بیٹے برنالہ میں ایک مقامی نامہ نگار ہیں۔ قرسید کے دو بیٹے ویلڈر کا کام کرتے ہیں اور تیسرے بیٹے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں۔

مجیدن نے قرسید کے مقابلے یہ کام بہت پہلے شروع کر دیا تھا۔ سیکھنے کے زمانے میں ان پر أزمائے گئے قاعدہ قانون بھی تقریباً ویسے ہی تھے۔ ’’میری پرجائی [بھابھی] میری ٹوئی [کولہوں] پر چپت لگانے سے کوئی پرہیز نہیں کرتی تھیں،‘‘ اپنی جیٹھانی کا ذکر کرتے ہوئے مجیدن کہتی ہیں۔ انہوں نے ہی مجیدن کو بُنائی کا کام سکھایا تھا۔

’’حالانکہ، میں تھوڑا گرم دماغ لڑکی تھی، لیکن میں خاموش رہی، کیوں کہ مجھے یہ کام سیکھنا تھا۔‘‘ اور انہوں نے یہ کر دکھایا، اور وہ بھی ایک مہینہ کے اندر ’’اپنی مایوسی اور آنسوؤں کے باوجود۔‘‘

مجیدن کا پختہ عزم پہلی بار ان کے والد کی موت کے بعد نظر آیا، جب ان کی ماں گھر میں کمانے والی اکیلی ممبر رہ گئیں۔ تب ۱۴ سال کی مجیدن نے اپنی ماں کی مدد کرنے کی ضد کی۔ شروع میں ان کی ماں نے منع کر دیا۔ ’’ بے بے [ماں] ہنس کر منع کر دیتی اور کہتی کہ میں کام نہیں کر سکتی، کیوں کہ ’میں ایک لڑکی ہوں‘۔‘‘ مجیدن یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’لیکن میں بضد ہو جاتی تھی۔ میں اس سے پوچھتی کہ میرے لڑکی ہونے کی وجہ سے مجھے میری فیملی کی مدد سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔‘‘

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

دونوں خواتین بانا کے افقی دھاگوں کو ایک لکڑی کی ڈنڈی کی مدد سے تانا کے دھاگوں کے درمیان سے نکالتی ہوئی ایک دوسرے سے بدلتے ہوئے باریک ڈیزائن بناتی ہیں۔ مجیدن تھوڑی خالی جگہ چھوڑ کر ہرے اور کالے رنگ کے پھول بناتی ہیں۔ مجید تانا کے دھاگے کو لپیٹتی ہیں۔ وہ ان دھاگوں سے ایسی تصویر بنائیں گی جن کے بارے میں وہ کہتی ہیں، ’یہ ان کے تصور کی دین ہے۔‘ ایسا کوئی ڈیزائن یا پیٹرن نہیں ہے جس کو دیکھ وہ ان کی نقل کر سکیں

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

مجیدن اور قرسید پیلے اور نیلے دھاگوں کی مدد سے دو پھولوں والے ڈیزائن بناتی ہوئیں۔ پھر تھوڑی خالی جگہ چھوڑ کر دونوں ہرے اور کالے دھاگوں کا پھول بناتی ہیں۔ ’جب پھول بن جائیں گے، تب ہم دری کا ایک فٹ صرف لال بانے سے بُنیں گے،‘ مجیدن کہتی ہیں۔ دری کو ناپنے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتی ہیں۔ ایسا وہ اس لیے کرتی ہیں، کیوں کہ دونوں خواتین میں سے کسی نے کبھی اسکول کا چہرہ نہیں دیکھا ہے

ان کی فیملی تقسیم ہند کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر رہی ہے۔ ان کے نانہال کے لوگ پاکستان میں رہتے تھے۔ یہ درد مجیدن کو آج بھی ٹہوکے مارتا ہے۔ جب ۱۹۸۰ کی دہائی میں وہ ان لوگوں سے ملنے گئیں، تو ان کے لیے تحفے لے کر گئیں – دو ہاتھ کی بُنی ہوئی دریاں جنہیں انہوں نے ’’خوب پسند کیا۔‘‘

*****

گھنٹوں کی کڑی محنت کے باوجود یہ عورتیں ایک دری کے عوض صرف ۲۵۰ روپے کماتی ہیں۔ ’’ہم عموماً ایک دری بُننے کے لیے ۱۱۰۰ روپے لیتے ہیں۔ اگر گاہک ہمیں سوت دیتا ہے، تب اپنی محنت کے لیے ہم صرف ۵۰۰ روپے ہی لیتے ہیں،‘‘ مجیدن بتاتی ہیں۔ ’’جب میں نے یہ کام کرنا شروع کیا تھا، تو ایک پوری دری بُننے کے ۲۰ روپے ملتے تھے۔ اب ہم بہت زیادہ بنا بھی نہیں پاتے ہیں،‘‘ مجیدن کہتی ہیں۔ ’’گاؤں میں اب ایک لیٹر دودھ ۶۰ روپے میں ملتا ہے۔ آپ خود ہی مہینہ کے خرچوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں،‘‘ قرسید تھوڑی مایوسی کے ساتھ کہتی ہیں۔

مجیدن اور قرسید نے اپنے بچوں کی پرورش کافی تکلیف اٹھا کر کی، کیوں کہ ان کے شوہر بے روزگار تھے۔ ’’میں جٹ سکھ خاندانوں کے گھروں میں کام کرتی تھی، جو ہمارے گزارہ کے لیے ضروری چیزیں ہمیں دے دیتے تھے۔ میرے دو بچوں کا پیٹ اسی کے سہارے بھرتا تھا۔‘‘ مجیدن، جو اپنے چھوٹے بیٹے اور ان کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں، اور قرسید، جو اپنے آٹھ لوگوں کی فیملی کے ساتھ رہتی ہیں، اکثر اس مشکل دور کو یاد کرتی ہیں۔

تقریباً تین سال پہلے تک، ستمبر اور اکتوبر کے درمیان کپاس کی پیداوار کے وقت وہ دونوں کپاس چُنتی تھیں۔ اس کپاس کا وہ دھاگہ کاتتی تھیں اور اپنی کمائی میں کچھ اضافی روپے جوڑ لیتی تھیں۔ تقریباً ۴۰ کلو کپاس چُن کر وہ ایک دن میں ۲۰۰ روپے تک کما لیتی تھیں۔ ’’لیکن، اب زیادہ تر کسان کپاس کی جگہ دھان اُگانے لگے ہیں،‘‘ مجیدن بتاتی ہیں۔ اس تبدیلی نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سرکاری ریکارڈ پنجاب میں کپاس کی کھیتی میں آئی اس تیز گراوٹ کو دکھاتے ہیں، جو ۱۵-۲۰۱۴ کے ۴ لاکھ ۲۰ ہزار ہیکٹیئر سے گھٹ کر ۲۳-۲۰۲۲ میں صرف ۲ لاکھ ۴۰ ہزار ہیکٹیئر پر آ گیا ہے۔

آخرکار مارچ میں مجبوراً مجیدن کو اپنا چرخہ ہٹا دینا پڑا، جس پر وہ سوت کاتنے کا کام کرتی تھیں۔ اور اب یہ چرخہ ایک شیڈ میں بیکار پڑا ہوا ہے۔ دریوں کی مانگ میں بھی پہلے کے مقابلے بہت کمی آئی ہے۔ پہلے وہ ایک مہینہ میں ۱۰ سے ۱۲ دریاں بُنتی تھیں، لیکن اب وہ مشکل سے دو دری ہی بناتی ہیں۔ ان کی کمائی کا واحد مستقل ذریعہ ریاستی حکومت کے ذریعہ دی جانے والی ۱۵۰۰ روپے کی ماہانہ بیوہ پنشن ہے۔

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

مجیدن اپنے ہاتھ کی بُنی ایک دری کو اس کے کھلے دھاگوں پر گانٹھ لگا کر حتمی شکل دے رہی ہیں

PHOTO • Sanskriti Talwar
PHOTO • Sanskriti Talwar

مجیدن ایک دری (بائیں) دکھاتی ہیں، جسے انہوں نے قرسید کے ساتھ مل کر بُنا ہے۔ اپنے ۱۰ سال کے پوتے عمران خان (دائیں) کی مدد سے مجیدن سوئی میں دھاگہ ڈالتی ہیں۔ تقریباً گھنٹہ بھر سے بھی زیادہ دیر تک کام کرنے کے بعد مجیدن اور قرسید پیروں کو پھیلا کر تھوڑی دیر آرام کرتی ہیں۔ اب دونوں خواتین کی نظریں دن بہ دن کمزور پڑنے لگی ہیں اور وہ جوڑوں کے درد سے بھی پریشان رہتی ہیں

تقریباً گھنٹہ بھر سے بھی زیادہ دیر تک کام کرنے کے بعد مجیدن اور قرسید پیروں کو پھیلا کر تھوڑی دیر آرام کرتی ہیں۔ قرسید اپنی دکھتی ہوئی پیٹھ کے بارے میں بتاتی ہیں اور مجیدن اپنے گھنٹوں کو دباتی ہوئی کہتی ہیں، ’’آج تو میرے لیے چلنا بھی دوبھر ہو رہا ہے۔ میرے جوڑوں میں بھیانک درد ہے۔‘‘ دونوں اپنی آنکھوں کی ڈھلتی ہوئی روشنی کے بارے میں بھی بتانا نہیں بھولتی ہیں۔

’’بندا بن کے کام کتّا ہے [آدمی کی طرح کام کیا ہے]، اور اس عمر میں بھی کر رہی ہوں،‘‘ مجیدن کہتی ہیں، جو اپنی معمولی کمائی سے آج بھی اپنا گھر بار چلا رہی ہیں۔

ڈھلتی ہوئی عمر اور اس عمر کی تکلیفوں کے بعد بھی مجیدن کو پنشن اور دری بُننے سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنی گزر بسر کرنی پڑتی ہے۔ روز صبح ۷ بجے انہیں ایک فیملی کے لیے کھانا پکانے کئی کلومیٹر پیدل جانا پڑتا ہے، جہاں سے انہیں مہینے کے ۲۰۰۰ روپے ملتے ہیں۔ وہ اور قرسید کچھ خاندانوں کے لیے ۷۰ روپے فی گھنٹہ کے حساب سے گھر کے کام کاج بھی کرتی ہیں۔

پورا دن کام کرنے کے بعد بھی وہ دری بُننے کے لیے وقت نکال لیتی ہیں۔ ’’اگر ہم روز تھوڑی دیر بُنائی کریں، تو ایک دری پورا کرنے میں ہمیں صرف ہفتہ بھر کا وقت لگے گا۔‘‘ قرسید بتاتی ہیں۔

اب مجیدن یہ کام چھوڑنا چاہتی ہیں۔ ’’اسے پورا کرنے کے بعد یا شاید اس کے بعد ایک اور…پھر میں یہ کام بند کر دوں گی۔ لمبے وقت تک بیٹھے رہنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے یہاں پر درد ہونے لگتا ہے،‘‘ پچھلے سال ہوئی گال بلیڈر کی اپنی سرجری کے ٹانکے دکھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔ ’’زندگی کے بچے ہوئے دو ایک سال میں اچھی طرح سے جینا چاہتی ہوں۔‘‘

بہرحال، اگلے دن ہی کام چھوڑنے کا اپنا ارادہ وہ بھول چکی ہیں۔ کسی دوسرے گاؤں سے ۸۰ سال کے آس پاس کی بلبیر کور انہیں ایک دری بنانے کا آرڈر دینے آئی ہیں۔ ’’مائی [ماں]، گھر والوں سے پوچھ کر بتانا کہ دری انہیں اپنے گھر میں استعمال کرنے کے لیے چاہیے یا اپنی بیٹی کے داج کے لیے،‘‘ مجیدن اُس بوڑھی عورت کے ہاتھ میں سو روپے رکھتے ہوئے کہتی ہیں۔

یہ اسٹوری مرنالنی مکھرجی فاؤنڈیشن (ایم ایم ایف) سے ملی فیلوشپ کے تحت لکھی گئی ہے۔

مترجم: قمر صدیقی

Sanskriti Talwar

Sanskriti Talwar is an independent journalist based in New Delhi, and a PARI MMF Fellow for 2023.

Other stories by Sanskriti Talwar
Editor : Vishaka George

Vishaka George is Senior Editor at PARI. She reports on livelihoods and environmental issues. Vishaka heads PARI's Social Media functions and works in the Education team to take PARI's stories into the classroom and get students to document issues around them.

Other stories by Vishaka George
Translator : Qamar Siddique

Qamar Siddique is the Translations Editor, Urdu, at the People’s Archive of Rural India. He is a Delhi-based journalist.

Other stories by Qamar Siddique