لیکن کامٹھا گاؤں کے کسان ایک ہفتہ سے زیادہ اپنا احتجاج جاری نہیں رکھ سکے۔ وکاس کہتے ہیں، ’’ہم سے جتنا بن پڑا ہم نے اسے آگے بڑھایا۔ صرف ایک ہفتے میں، ہم تینوں کا ۸۰ ہزار روپے کا نقصان ہوا [کیونکہ ہم نے بازار میں اسٹاک بھیجنا بند کر دیا تھا]۔ وکاس (۴۳) اپنا اور اپنے دو بھائیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ ان کے پاس مشترکہ طور پر تقریباً ۲۰ ایکڑ زمین ہے، جس پر وہ سبزیاں اگاتے ہیں اور دودھ کا پروڈکشن کرتے ہیں۔ ’’ہڑتال کے دوران ہونے والے نقصان کی تلافی کرنے میں ہمیں ایک سال لگ جائے گا،‘‘ وہ مزید کہتے ہیں۔ پاٹاڈے برادران پر ۸ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ اور اس طرح کا نقصان ان کے بوجھ کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔
لہٰذا ایک ہفتے کی دلیرانہ لڑائی کے بعد – ہڑتال کی وجہ سے عثمان آباد اور کلمب کے بازار سات دنوں تک بند رہے – کامٹھا کے کسانوں کو ہار ماننی پڑی۔ وکاس کہتے ہیں، ’’ہمارے اوپر اپنے گھر والوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘ گاؤں میں زیادہ تر سبزیوں کی کاشت کی جاتی ہے، اورایک اندازہ کے مطابق بازاروں میں ہر روز ۷۰ ہزار روپے کا مال بھیجا جاتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’ایک ہفتے تک، ان کے پاس کوئی اسٹاک نہیں تھا۔ میں جانتا ہوں کہ ۱۷۰۰ لوگوں کی آبادی والا گاؤں [سال ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق، تقریباً ۱۸۶۰ کی آبادی والا گاؤں] حکومت کوبہت زیادہ دباؤ میں نہیں ڈال سکتا۔ لیکن ہم اس تحریک کا حصہ بننا چاہتے تھے، چاہے وہ حصہ چھوٹا ساہی کیوں نہ ہو۔‘‘
احمد نگر اور ناسک اضلاع حالیہ ہڑتال کے مرکز بنے رہے، جب کہ مراٹھواڑہ ( اور ودربھ بھی) کے روایتی طور پر پریشان حال زرعی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے مورچے اور ہڑتالیں غصے کو کم کرنے کے لیے شروع ہوئیں۔
مراٹھواڑہ کی تحریک میں اتنی شدت اور پائیداری کیوں نہیں تھی؟ عثمان آباد کے کامٹھا جیسے گاؤں کو چھوڑ کر، مراٹھواڑہ کے دیگر پانچ اضلاع – بیڈ، اورنگ آباد، جالنہ، لاتور اور ناندیڑ – میں کسانوں کی ہڑتال پر ردعمل بہت معمولی تھا۔ مراٹھواڑہ کے صرف پربھنی اور ہنگولی اضلاع میں زیادہ شدید اور مسلسل احتجاج دیکھنے میں آئے۔
شاید اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ یہ خطہ ہڑتال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ناسک اور مغربی مہاراشٹر کے کسان دیگر علاقوں کے کسانوں سے نسبتاً بہتر حالت میں ہیں، جبکہ مراٹھواڑہ کے کسان ۲۰۱۲ سے ۲۰۱۵ تک مسلسل چار سال کی خشک سالی سے گزر رہے ہیں۔ پانی کی شدید قلت نے ان کو اور بھی مشکل حالات کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بیڈ کے لمب گنیش گاؤں کی ۴۵ سالہ مہانندا جادھو اپنے چار ایکڑ کے کھیت میں مونگ پھلی چننے میں مصروف تھیں، جب ایک روز دوپہر کے وقت میری ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مالی حالت بہت اچھی نہیں ہے، اور ہڑتال ہونے پر ان کی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ وہ کہتی ہیں، ’’گزشتہ سال ہمارا گیندے کا پھول مکمل طور پر سوکھ گیا تھا۔ اس سے ہمیں ۵۰ ہزار روپے کا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ، ہم نے اپنے کھیت پر ڈرپ اریگیشن (فوارے سے آبپاشی) کی شروعات کی اور ایک بورویل بھی لگایا۔ ہمارے اوپر پہلے سے ہی بینک کے ۲ لاکھ روپے بقایا ہیں۔‘‘
جادھو نے بات چیت کے دوران بتایا کہ گیندے کی فصل خراب ہونے سے ایک اور مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا: ’’پچھلے سال ہم نے ارہر کی فصل لگائی تھی، لیکن سرکاری مراکز میں بد انتظامی کی وجہ سے اسے فروخت نہیں کر سکے۔ اگر ہم اسے فروخت کر دیتے، تو اگلی فصلوں کے لیے حشرہ کش دوائیں، بیج اور کھاد قرض لیے بغیر خرید سکتے تھے۔‘‘
جادھو کے دو بیٹے ہیں، جن کی عمر بالترتیب ۲۲ اور ۲۵ سال ہے، اور وہ بیڈ میں بی ایس سی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہڑتال میں حصہ لینے سے جادھو کو ان کی فیس ادا کرنے میں بھی دقت پیش آتی۔ ’’ہمیں ان میں سے ہر ایک کی تقریباً ایک لاکھ روپے [سالانہ] فیس ادا کرنی پڑتی ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔