ہاتھی اپنے پھنڈی (ٹریچر) کو کبھی نہیں بھولتا ہے، شرت مران کہتے ہیں۔ ابھی تک وہ ۹۰ سے زیادہ ہاتھیوں کو ٹریننگ دے چکے ہیں۔ موٹی جلد والا یہ جانور اگر گھنے جنگلوں میں جنگلی ہاتھیوں کے جھنڈ میں بھی ہو، تو اپنے پھنڈی کی ایک پکار پر دوڑا چلا آئے گا، وہ بتاتے ہیں۔
پِلکھانہ [فیل خانہ] میں، جہاں ٹریننگ کے دوران ہاتھیوں کو رکھا جاتا ہے، سب سے پہلے نوزائیدہ بچوں کا تعارف انسانوں کے لمس سے کرایا جاتا ہے۔ یہ عمل روزانہ کے ایک معمول کی طرح کئی دنوں تک دہرایا جاتا ہے۔ ’’ٹریننگ کے دوران اس کے لیے معمولی درد بھی ناقابل برداشت ہوتا ہے،‘‘ شرت کہتے ہیں۔
جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں، اس نوزائیدہ ہاتھی کے ارد گرد لوگوں کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اور، آہستہ آہستہ ہاتھی کو انسانوں کے درمیان اپنائیت سی محسوس ہونے لگتی ہے۔
شرت اور دوسرے مہاوت نوزائیدہ ہاتھی کو ٹریننگ دیتے ہوئے اسے گیت گا کر سناتے ہیں۔ ان گیتوں میں جانور اور اس کے ٹرینر کے درمیان دوستی کی کہانیاں ہوتی ہیں۔





