’’میرے پھیپھڑے گویا اکڑ کر پتھر کے ہو گئے ہیں۔ میں چل بھی نہیں پاتا ہوں،‘‘ مانک سردار کہتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۲ میں ۵۵ سال کے مانک میں سلیکوسس کی علامت پائی گئی، جو کہ ایک لاعلاج مرض ہے۔ ’انتخابات میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’مجھے بس اپنی فیملی کی فکر ہے۔‘‘
نب کمار منڈل بھی سلیکوسس کے مریض ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’انتخابات جھوٹ کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ ہمارے لیے ووٹ ڈالنا روزمرہ کے دوسرے کاموں جیسا ہی ہے۔ کوئی جیتے یا ہارے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے حالات نہیں بدلیں گے۔‘‘
مانک اور نب دونوں ہی مغربی بنگال کے میناکھان بلاک کے جھوپ کھلی گاؤں میں رہتے ہیں۔ یہاں ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کے آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہونی ہے۔
یہ دونوں ہی اپنی گرتی ہوئی صحت اور ان فیکٹریوں میں سلیکا کے ذرات کے درمیان سانس لینے کی وجہ سے آمدنی میں ہوئے نقصان کو برداشت کر رہے ہیں، جن میں انہوں نے ایک ڈیڑھ سال کے لیے بیچ بیچ میں کام کیا تھا۔ انہیں کسی قسم کا معاوضہ اس لیے نہیں مل پایا، کیوں کہ زیادہ تر ریمنگ ماس فیکٹریاں، کارخانوں کے ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، اور اگر دو چار ہیں بھی تو وہ اپنے مزدوروں کے نام کوئی تقرری نامہ یا شناختی کارڈ جاری نہیں کرتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر فیکٹریاں یا تو غیر قانونی ہیں یا جزوی طور پر ہی قانونی ہیں، اور ان میں کام کرنے والے مزدوروں کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہے۔














