مارچ کی گرم دوپہر کا وقت ہے اور اوراپانی گاؤں کے بزرگ ایک چھوٹے سے سفید کلیسا (چرچ) کے اندر اکٹھا ہوئے ہیں۔ لیکن وہ کسی اخلاقی دباؤ کے سبب یہاں نہیں آئے ہیں۔
فرش پر گول دائرہ بنا کر بیٹھے اس گروپ کے لوگوں میں ایک بات مشترک ہے – وہ ہائی یا لو بلڈ پریشر (بی پی) کے عارضہ میں طویل عرصے سے مبتلا ہیں۔ اس لیے، وہ بلڈ پریشر کی جانچ کرانے کے لیے مہینہ میں ایک بار جمع ہوتے ہیں اور دواؤں کے لیے انتظار کرتے وقت الگ الگ مسائل پر گفتگو کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔
روپی بائی کے نام سے مشہور روپی کہتی ہیں، ’’مجھے میٹنگوں میں آنا پسند ہے، کیوں کہ یہاں مجھے اپنے غموں کو بانٹنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘ تقریباً ۵۳ سالہ روپی گزشتہ پانچ سالوں سے یہاں آ رہی ہیں۔ وہ بیگا آدیواسی ہیں اور گزر بسر کے لیے کھیتی کرتی ہیں اور اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے جنگل سے ایندھن کی لکڑی اور مہوا جیسی جنگلاتی پیداوار پر منحصر ہیں۔ بیگا آدیواسیوں کو خصوصی طور پر کمزور قبائلی جماعت (پی وی ٹی جی) کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ اوراپانی (جسے اُراپانی بھی لکھا جاتا ہے) گاؤں کے زیادہ تر لوگ بیگا برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔
بلاس پور ضلع کے کوٹا بلاک کا یہ گاؤں چھتیس گڑھ کے اچنکمار-امرکنٹک بائیو اسفیئر ریزرو (اے اے بی آر) کے قریب واقع ہے۔ کیسے ہائی بلڈ پریشر نے ان کی زندگی کو متاثر کیا ہے، یہ بتاتے ہوئے پُھلسوری لکڑا کہتی ہیں، ’’میں بانس جمع کرنے کے لیے جنگل جاتی تھی، تاکہ جھاڑو بنا کر فروخت کر سکوں۔ لیکن اب میں زیادہ پیدل نہیں چل پاتی، اس لیے گھر پر ہی رہتی ہوں۔‘‘ ان کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہو چکی ہے اور وہ اب گھر پر رہ کر اپنی بکریوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور گائے کا گوبر جمع کرتی ہیں۔ زیادہ تر بیگا آدیواسی اپنے معاش کے لیے جنگلوں پر منحصر ہیں۔








