میں تھک گیا ہوں۔ میرا جسم بھاری اور دماغ بوجھل ہے۔ میری آنکھوں میں موت کا کرب ہے – قرب و جوار کے استحصال زدہ افراد کی موت کا کرب۔ جن کہانیوں پر میں نے کام کیا ہے، انہیں لکھنے سے خود کو قاصر محسوس کر رہا ہوں۔ میری زبان گنگ ہے۔ اور اب جب کہ میں یہ اسٹوری لکھنے بیٹھا ہوں، حکومت چنئی کے انَگ پُتور میں دلتوں کے مکانات منہدم کر رہی ہے۔ میرا ذہن مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
میں ابھی تک ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کو تمل ناڈو کے ہوسور میں پٹاخے کے گوداموں میں مزدوروں کی موت سے خود کو الگ نہیں کر سکا ہوں۔ میں اب تک ۲۲ اموات درج کر چکا ہوں۔ ان میں سے ۸ طباء تھے، جن کی عمر ۱۷ سے ۲۱ سال کے درمیان تھی۔ سبھی اس گودام میں کام کرتے تھے جہاں پٹاخے رکھے تھے۔ آٹھوں بچے ایک ہی گاؤں کے تھے اور قریبی دوست تھے۔
فوٹو گرافی سیکھنے کے شروعاتی دنوں سے ہی مجھے ان لوگوں کی زندگیوں میں دلچسپی رہی ہے جو پٹاخوں کے کارخانوں، گوداموں اور دکانوں میں کام کرتے ہیں۔ میں نے بہت کوشش کی، لیکن مجھے مطلوبہ اجازت نہیں ملی۔ ہر کوشش میں مجھے یہی بتایا گیا کہ گودام والے، کبھی کوئی اجازت نہیں دیں گے۔ تصویریں لینے کی بات چھوڑیے، اندر داخل ہونا ہی مشکل تھا۔
میرے والدین نے دیوالی کے موقع پر کبھی بھی ہمارے لیے نئے کپڑے یا پٹاخے نہیں خریدے۔ وہ ان کے دسترس سے باہر کی چیزیں تھیں۔ میرے بڑے پاپا – والد کے سب سے بڑے بھائی – ہمارے لیے نئے کپڑے لاتے تھے۔ دیوالی منانے کے لیے ہم انہی کے گھر جاتے تھے۔ وہ ہمارے لیے پٹاخے بھی خریدتے تھے اور ہم بچوں کے ساتھ مل کر انہیں پھوڑتے بھی تھے۔
مجھے پٹاخے پھوڑنے میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا پٹاخوں سے میں نے مکمل طور پر دوری اختیار کر لی۔ میں نے بشمول دیوالی کے تمام دوسرے تہوار بھی منانا چھوڑ دیا۔ فوٹو گرافی کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد ہی میں نے مزدور پیشہ افراد (پرولتاریہ) کی زندگیوں کے بارے میں سمجھنا شروع کیا۔
فوٹو گرافی نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ ہر سال دیوالی کے موقع پر پٹاخوں کے گوداموں میں آگ لگتی اور حادثات ہوتے تھے۔ میں ایسی جگہ رہتا تھا جہاں مجھے ایسے حادثات کی زیادہ پرواہ نہیں تھی۔





















