’’یہ ۳۵۰ روپے ہیں۔ کورونا کے سبب، ہم پہلے سے ہی کچھ نہیں کما پا رہے ہیں،‘‘ پرکاش کوکرے نے کہا، جب ایک خریدار نے ان سے کچھ مول تول کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک سفید نر بھیڑ کے بچے کو اٹھایا اور اسے زمین پر پڑے ترازو پر رکھ دیا۔ ’’تین کلو،‘‘ انہوں نے ان دو گاہکوں کو بتایا، جو ۲۰۰ روپے فی کلو کی مانگ پر بضد تھے۔ ’’یہ بہت کم ہے، لیکن مجھے پیسے کی ضرورت ہے،‘‘ جانور کو اس کے نئے مالک کے حوالے کرتے ہوئے پرکاش نے کہا۔
’’جانے دیجئے، ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ انہوں نے مجھے بتایا، جب میں جون کے آخری ہفتہ میں دوپہر کے وقت واڈا تعلقہ کی ایک بستی، دیسائی پاڑہ کے ایک کھلے میدان میں ان کی فیملی سے ملی تھی۔ تب کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے تین مہینے ہو چکے تھے۔
پرکاش کی فیملی، چھ دیگر کنبوں کے ساتھ – تمام دھنگر برادری کے خانہ بدوش چرواہے – مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے اس میدان میں دو دنوں سے رکی ہوئی تھی۔ کچھ عورتیں، مویشیوں کے بچوں کو بھاگنے سے روکنے کے لیے نائلان کی جالیاں لگا رہی تھیں۔ اناج، المونیم کے برتن، پلاسٹک کی بالٹی اور دیگر سامانوں سے بھرے بورے میدان میں چاروں طرف بکھرے پڑے تھے۔ کچھ بچے میمنوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔
میمنے، بھیڑ اور بکریوں کو فروخت کرنا – جیسے کہ پرکاش نے تھوڑی دیر پہلے ہی مول تول کے بعد فروخت کیا تھا – دھنگروں کے اس گروپ کے لیے معاش کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ان سات کنبوں کے پاس تقریباً ۵۰۰ جانور ہیں، جن میں ۲۰ گھوڑے بھی شامل ہیں۔ وہ بھیڑوں کی پرورش کرتے ہیں اور انہیں نقدی یا اناج کے بدلے فروخت کرتے ہیں۔ بکریوں کو عام طور پر اپنے خود کے استعمال کے دودھ کے لیے رکھا جاتا ہے، اور کبھی کبھی گوشت کا کاروبار کرنے والوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی، ان کے جانور کھیتوں پر چرتے ہیں، اور ان کی کھاد کے بدلے زمیندار ان کنبوں کو کچھ دنوں کے لیے کھانا، پانی اور رہنے کی جگہ دیتے ہیں۔
’’ہم صرف مینڈھا [نر بھیڑ] فروخت کرتے ہیں اور مادہ بھیڑ اپنے پاس رکھتے ہیں،‘‘ مویشی پروروں کے اس گروپ کے سرپرست، ۵۵ سالہ پرکاش نے کہا۔ ’’کسان ہم سے بھیڑیں خریدتے ہیں کیوں کہ وہ ان کی زمینوں کو چرانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی کھاد مٹی کو زرخیز بناتی ہے۔‘‘











