یہ کسی فلم میں ہیرو کے پردے پر نمودار ہونے جیسا ہی ایک منظر ہے۔ ایک دکان میں چھ مرد آپس میں باتیں کر رہے ہیں کہ کٹہل کا کاروبار کرنا کسی عورت کے بس کا کام نہیں ہے، کیوں کہ اس میں نقل و حمل، بھاری وزن اٹھانے اور مختلف قسم کے خطرے مول لینے پڑتے ہیں۔ لیکن، پانچ منٹ بعد ہی دکان میں لکشمی داخل ہوتی ہیں۔ وہ زرد رنگ کی ساڑی پہنے ہوئی ہیں، بالوں میں جوڑا بندھا ہوا ہے، اور کان اور ناک میں سونے کے زیور لٹک رہے ہیں۔ تبھی اُن چھ مردوں میں الگ رائے رکھنے والا ایک کسان کہتا ہے، ’’اس کاروبار میں وہ سب سے اہم شخص ہیں۔‘‘
’’وہی ہماری پیداوار کی قیمت طے کرتی ہیں۔‘‘
پنروتی میں کٹہل کا کاروبار کرنے والی ۶۵ سالہ اے لکشمی واحد خاتون ہیں، جو کسی بھی زرعی تجارت کی گنی چنی سینئر خواتین ویاپاریوں (تاجروں) میں سے ایک ہیں۔
تمل ناڈو کے کڈلور ضلع کا پنروتی شہر اپنے کٹہلوں کے لیے کافی مشہور ہے۔ یہاں ہر سیزن میں کٹہل کے سینکڑوں ٹن پھل روزانہ خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ ہر سال لکشمی ہی ان ہزاروں کلو فصل کی قیمت طے کرتی ہیں جسے شہر کی کٹہل منڈی کی ۲۲ دکانوں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے عوض انہیں خریدار تاجر سے ہر ۱۰۰۰ روپے پر ۵۰ روپے کے حساب سے کمیشن کی رقم ملتی ہے۔ کبھی کبھی کسان انہیں کچھ پیسے الگ سے بھی دے سکتے ہیں، لیکن یہ پوری طرح سے ان تاجروں کی مرضی پر منحصر ہے۔ خود لکشمی کے اندازہ کے مطابق، کٹہل کی پیداوار کے موسم میں ان کی یومیہ کمائی ۱۰۰۰ روپے سے ۲۰۰۰ روپے کے درمیان ہوتی ہے۔
اتنے پیسے کمانے کے لیے ان کو روزانہ ۱۲ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ رات کو ایک بجے ہی سو کر اٹھ جاتی ہیں۔ جلدی بیدار ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے لکشمی کہتی ہیں، ’’سرکّو (مال) زیادہ ہوتا ہے تو تاجر مجھے لینے کے لیے گھر پہنچ جاتے ہیں۔‘‘ وہ آٹو رکشہ پر بیٹھ کر ۳ بجے کے آس پاس منڈی پہنچ جاتی ہیں۔ ان کا کام دوپہر ایک بجے کے بعد ہی ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اپنے گھر لوٹ پاتی ہیں اور کچھ کھانے پینے کے بعد تھوڑا آرام کرتی ہیں۔ کچھ گھنٹوں کے بعد انہیں دوبارہ بازار کے لیے نکلنا ہوتا ہے…
وہ مجھ سے کہتی ہیں، ’’میں کٹہل کی پیداوار کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتی۔‘‘ گھنٹوں بات چیت کرنے اور چیخنے چلانے کی وجہ سے ان کی آواز کچھ حد تک سخت ہو گئی ہے۔ وہ اپنے فطری نرم لہجے میں کہتی ہیں، ’’لیکن مجھے انہیں بیچنے کے طور طریقوں کے بارے میں تھوڑا بہت علم ہے۔‘‘ آخرکار وہ اس تجارت میں گزشتہ تین دہائیوں سے جو ہیں، اور اس سے پہلے تقریباً ۲۰ سالوں تک انہوں نے ریل گاڑیوں میں گھوم گھوم کر کٹہل بیچنے کا بھی کام کیا ہے۔















