پڑھنے یا لکھنے کے نام پر وہ صرف اپنا نام لکھنا جانتی ہیں۔ جب وہ سنبھل سنبھل کر دیوناگری (ہندی) میں اپنا نام لکھتی ہیں، تو ان کے چہرے پر خوشی کے اظہار کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ گو- پو- لی۔ پھر وہ بے ساختہ ہنسنے لگتی ہیں۔ خود اعتمادی سے بھری ہوئی ہنسی۔
چار بچوں کی ماں، ۳۸ سالہ گوپلی گومتی کہتی ہیں کہ عورتیں وہ سارے کام کر سکتی ہیں جنہیں کرنے کا وہ اپنے من میں ٹھان لیں۔
اُدے پور ضلع کے گوگُندا بلاک میں واقع کردا گاؤں کے مضافات میں بمشکل ۳۰ گھروں والی اس چھوٹی سی بستی میں گوپلی نے اپنے سبھی بچوں کو گھر میں ہی جنم دیا ہے۔ ان کی مدد کے لیے صرف ان کی برادری کی دوسری عورتیں موجود ہوتی تھیں۔ پہلی بار وہ اس وقت اسپتال گئیں، جب ان کی چوتھی اولاد، یعنی تیسری بیٹی کی پیدائش ہو چکی تھی۔ اسپتال میں وہ اپنا ٹیوبل لِگیشن کا آپریشن یا نس بندی کرانے کے ارادے سے گئی تھیں۔
وہ کہتی ہیں، ’’اس بات کو تسلیم کرنے کا وقت آ چکا تھا کہ ہماری فیملی پوری ہو چکی ہے۔‘‘ گوگُندا کمیونٹی ہیلتھ سنٹر (سی ایچ سی) کی ایک ہیلتھ ورکر حمل کو روکنے کے لیے انہیں اس ’آپریشن‘ کے بارے میں بتا چکی تھی۔ یہ ایک مفت حل تھا۔ انہیں سی ایچ سی تک پہنچنے کے سوا اور کچھ نہیں کرنا تھا، یہ ان کے گھر سے تقریباً ۳۰ کلومیٹر دور واقع اور حکومت کے ذریعے چلائے جا رہے ایک دیہی اسپتال کے طور پر کام کر رہا تھا اور چار پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے مقصد سے بنایا گیا تھا۔
حالانکہ، اس بارے میں انہوں نے اپنے گھر میں کئی بار ذکر بھی کیا، لیکن ان کے شوہر نے اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جب ان کا سب سے چھوٹا بچہ ان کے ہی دودھ پر منحصر تھا، تو انہوں نے اپنے اس فیصلہ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے میں کافی وقت لگایا۔













