سیاہ اندھیرا تھا، لیکن وہ سورج نکلنے کا انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ رات کے ۲ بج رہے تھے اور اگلے تین گھنٹے میں پولس والے انہیں روکنے کے لیے وہاں پہنچ جائیں گے۔ کساروپو دھن راجو اور ان کے دو ساتھی اس جگہ سے بچ کر نکلنے میں کامیاب رہے جہاں پر جلد ہی پولس عملہ متحرک ہو جائے گا۔ کچھ دیر بعد، وہ آزاد تھے – کھلے سمندر میں۔
’’شروع میں جاتے وقت میں کافی ڈرا ہوا تھا،‘‘ وہ ۱۰ اپریل کے واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ’’مجھے ہمت جٹانی پڑی۔ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی۔ مجھے اپنا کرایہ دینا تھا۔‘‘ دھن راجو (۴۴) اور ان کے ساتھی – سبھی پریشان حال ماہی گیر – باہری موٹر والی ان کی ایک چھوٹی سی کشتی میں بیٹھ کر سمندر میں نکل گئے تھے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ساحل پر مچھلی پکڑنے یا کوئی اور کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اور روزانہ صبح کو ۵ بجے، پولس وشاکھاپٹنم میں ماہی گیروں کی بندرگاہ کے دو داخلی دروازوں پر پہنچ جاتی ہے۔ یہاں کا بازار عوام اور ماہی گیروں، دونوں کے لیے ہی بند کر دیا گیا ہے۔
دھن راجو ۶-۷ کلو بنگارو ٹھیگا (سیم ماہی) کے ساتھ طلوع آفتاب سے قبل ہی لوٹ آئے۔ ’’میں بال بال بچ گیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’میرے واپس لوٹنے کے کچھ ہی منٹ بعد پولس آگئی تھی۔ اگر انہوں نے مجھے پکڑ لیا ہوتا، تو میری جم کر پٹائی ہوتی۔ لیکن مصیبت کی گھڑی میں، ہمیں وہ چیز کرنی پڑتی ہے جس سے ہم زندہ رہ سکیں۔ آج میں اپنا کرایہ چکاؤں گا، لیکن کل کو کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ مجھ میں کووڈ- ۱۹ کی تشخیص نہیں ہوئی ہے، لیکن یہ مجھے مالی طور پر متاثر کر رہا ہے۔‘‘
انہوں نے چوری سے مچھلی کو بیچ دیا، پولس کی نگاہوں سے دور، اس عارضی دکان پر، جسے انہوں نے چینگل راؤ پیٹا میں ڈاکٹر این ٹی آر بیچ روڈ کے پیچھے والی تنگ گلی میں، اپنی پرانی زنگ آلودہ روما سائیکل پر ایک سفید تختی لگاکر بنائی تھی۔ ’’کاش کہ میں اپنی سائیکل مین روڈ پر لے جا سکتا، لیکن مجھے پولس کا ڈر تھا،‘‘ دھن راجو کہتے ہیں، جنہوں نے اس دن یہ مچھلی ۲۵۰ روپے فی کلو کی عام قیمت کے بجائے ۱۰۰ روپے کلو بیچی۔
اگر دھن راجو نے عام دنوں میں ۶-۷ کلو سیم ماہی فروخت کی ہوتی، تو ان کی کمائی ۱۵۰۰ سے ۱۷۵۰ روپے ہوئی ہوتی۔ لیکن ان کی سائیکل والی مچھلی کی دکان پر لوگوں کی توجہ کم گئی۔ اور وہ دو دنوں میں اس مچھلی کو بیچ پائے – جس سے ان کی تقریباً ۷۵۰ روپے کی کمائی ہوئی۔ اس کام میں ان کا ساتھ دے رہی تھیں، ۴۶ سالہ پپو دیوی، جو گاہکوں کے لیے مچھلیوں کو کاٹنے اور ان کی صفائی کرنے میں مدد کر رہی تھیں۔ ہر مچھلی کو کاٹنے اور اس کی صفائی کرنے کے بدلے گاہک انہیں ۱۰-۲۰ روپے دیتے ہیں۔ وہ بھی وہاں پر تھیں، پیسے کے لیے خطرہ مول لے رہی تھیں۔










