کیرل میں رسیاں روایتی طور پر ناریل کے پتے سے بنائی جاتی رہی ہیں۔ کیرل کے تھیروننتاپورم، کولم، الپوزا اور (کوزی کوڈ کے قریب کے) کوئیلینڈی جیسے ساحلی گاؤوں کی غریب طبقہ اور ذات کی عورتیں اس شعبہ میں کام کرتی ہیں۔ لیکن فائبر کی کمی نے اس صنعت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اب یہ میٹریل پڑوسی ریاستوں سے منگایا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رسیاں بنانے کے طریقے اور ٹکنالوجی میں بھی تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور اب اسے ہاتھ سے نہ بناکر مشینوں سے بنایا جاتا ہے۔ ان تمام چیزوں کا رسی کی صنعت پر برا اثر پڑا ہے۔


The shifting strands of coir_V. Sasikumar 2

ارٹوپوزا کی سنکاری ایس نے اپنی ریاست میں رسّی کے روایتی شعبہ میں ہونے والی تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے


Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

V. Sasikumar

V. Sasikumar is a 2015 PARI Fellow, and a Thiruvananthapuram-based filmmaker who focuses on rural, social and cultural issues.

Other stories by V. Sasikumar