چمپت نارائن جنگلے کی جس جگہ موت ہوئی تھی، وہ کپاس کے لہلہاتے کھیت کا ایک پتھریلا، بے آب و گیاہ حصہ ہے۔
مہاراشٹر کے ان علاقوں میں، اسے ہلکی زمین کہا جاتا ہے۔ ارد گرد کی سرسبز پہاڑی آندھ قبیلہ سے جڑی زمینوں کے کینوس کو ایک خوبصورت منظرنامہ فراہم کرتی ہے، جو گاؤں سے دور کھیت کا ایک الگ تھلگ پڑا حصہ ہے۔
جنگلی سوروں سے اپنے کھیت کو بچانے کے لیے چمپت کئی دن اور رات وہیں کھیت میں گزارتے تھے اور پھوس کی بنی جھونپڑی انہیں تیز دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھتی تھی۔ وہ جھونپڑی اب بھی اسی جگہ پر شہتیروں کے سہارے کھڑی ہے۔ ان کے پڑوسی یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ یہیں رہا کرتے تھے۔
آندھ آدیواسی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۴۵ سالہ کسان، چمپت کو اس جھونپڑی سے اپنا پورا کھیت نظر آتا ہوگا اور ساتھ ہی انہیں بنا پھلّی والے تباہ شدہ پودے، گھٹنے تک کی اونچائی کے ارہر کے پودے، اور لا متناہی نظر آتا نقصان بھی دکھائی دیتا رہا ہوگا۔
انہیں معلوم ہوگا کہ دو مہینے بعد، جب فصل کی کٹائی شروع ہوگی تو کوئی پیداوار حاصل نہیں ہوگی۔ انہیں قرض بھی ادا کرنے تھے اور اپنی فیملی کے روزمرہ کے خرچ بھی چلانے تھے۔ لیکن، ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔
















