’لیکن میرے پاس ایک اشٹیریو ہے، سر‘
ملک کے دیہی علاقوں میں کئی لاری چلانے والے، گاڑی کے مالک کی غیر موجودگی میں فری لانس کیب ڈرائیور بن جاتے ہیں، جیسا کہ کوراپُٹ ضلع میں اس گاڑی کو چلانے والا ڈرائیور کر رہا ہے



ملک کے دیہی علاقوں میں کئی لاری چلانے والے، گاڑی کے مالک کی غیر موجودگی میں فری لانس کیب ڈرائیور بن جاتے ہیں، جیسا کہ کوراپُٹ ضلع میں اس گاڑی کو چلانے والا ڈرائیور کر رہا ہے
آندھرا پردیش کے اس شہر میں بائک کی سیٹ سے لٹکے ریگزن کے بیگ (سیڈل بیگ) کی فروخت سے انتخابی نتائج کا پتہ لگایا جا سکتاہے
چند سال قبل ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر گنوا چکے بملیش جیسوال نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ، مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر بنا گیئر والے اسکوٹر سے پورا کیا
دیہی ہندوستان کی سڑکوں پر سفر کرتے وقت، کبھی کبھی آپ کا سامنا مزیدار اور عجیب و غریب چیزوں سے ہوتا ہے
دیوتا کے سامنے رقص کرنے کے لیے چھتیس گڑھ کے دیوبھوگ جاتے ہوئے
وہ ایک مجاہدِ آزادی، کسان، فیملی والے شخص ہیں – اور ۹۷ سال کی عمر میں سائیکل چلانے والے ایک غیر معمولی آدمی ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر کے سانگلی ضلع میں گن پتی بالا یادو سے ملنا انتہائی اطمینان بخش اور جذباتی تجربہ تھا
دیہی اوڈیشہ میں کسان، مزدور اور چرواہے کام کرتے وقت نزاکت سے بُنے ہوئے ’رین ہیٹ‘ پہنتے ہیں۔ آدیواسیوں کے ذریعہ بنائی گئی ان ٹوپیوں کو چھوٹے فروشندے، سائیکل پر لاد کر لمبی دوری طے کرتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں
مغربی بنگال کے جلپائی گُڑی ضلع میں چائے کے ایک باغ میں کام کرنے والا مزدور گاؤوں والوں کے لیے مفت میں ایک انوکھا ’بائک ایمولینس‘ چلاتا ہے، جسے حال ہی میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا ہے
شری لال ساہنی دن میں مچھلیاں بیچتے ہیں اور شام کو عظیم موسیقار بن جاتے ہیں۔ وہ ایک سائیکل پر سوار ہوتے ہیں اور ہاتھوں سے ہینڈل کو نہیں پکڑتے، بلکہ اپنے پیچھے رکھے ڈھول کو بجاتے ہیں، شانتی نکیتن، مغربی بنگال میں
فلاحی اسکیمیں اڈیشہ کے سن مہیشور گاؤں کے چند گھرانوں کو سیکورٹی تو فراہم کرپائی ہیں، لیکن پرسنّا سابر اور ان جیسے دوسرے کئی لوگوں کو شہروں کی طرف ہجرت کرنے سے نہیں روک پائی ہیں
چندرا سبرامنین تمل ناڈو کے سِوا گنگئی ضلع میں بن شوہر کی ماں، کسان اور خردہ فروش ہیں
پڈوکوٹئی میں عورتوں کی سائیکل چلانے کی مہم آزادی کی ایک طاقتور علامت ہے
رتن بسواس تقریباً ۲۰۰ کلوگرام وزن کے بانسوں سے لدی سائیکل کو ۱۷ کلومیٹر تک کھینچ رہا ہے۔
’چھکڑا‘ ایک ایسی گاڑی ہے جس کا آدھا حصہ موٹر سائیکل اور آدھا ٹھیلے کی طرح ہوتا ہے، جسے ’جگاڑ‘ سے بنایا جاتا ہے۔ یہ گاڑی آپ کو سوراشٹر کے دیہی علاقوں میں ہر جگہ دیکھنے کو مل جائے گی
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/دیہی-ہندوستان-سے-دو-پہیہ-گاڑیوں-کی-کہانیاں