’’بیوٹی پارلر جانے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے؟ بازار گھومنے اور پیسے خرچ کرنے کا یہ ایک اچھا بہانہ ہے۔‘‘
مونیکا کماری کہتی ہیں کہ بیوٹی پارلر جانے پر ان کے سسرال والے ان کے اوپر شک کرتے ہیں۔ چار رکنی یہ فیملی مشرقی بہار کے ایک چھوٹے سے شہر، جموئی سے تقریباً تین کلومیٹر دور کھیرما گاؤں میں رہتی ہے۔ ان تبصروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، ۲۵ سالہ مونیکا جب بھی ضرورت پیش آتی ہے اپنے ابرو کے بال بنوانے، اوپری ہونٹوں کے بال ہٹوانے اور چہرے کی مالش (فیشیل مساج) کروانے بیوٹی پارلر پہنچ جاتی ہیں۔ ان کے شوہر، جو پنچایت آفس میں کام کرتے ہیں، انہیں بھی پرانی نسل کی سوچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ کبھی کبھی وہ خود ہی مونیکا کو پارلر تک چھوڑ آتے ہیں۔
مونیکا ہی نہیں، بلکہ جموئی شہر اور جموئی ضلع کے آس پاس کے قصبوں اور گاؤوں کی نوجوان لڑکیاں اور عورتیں بھی خوبصورتی سے متعلق ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے قریبی پارلر جاتی ہیں۔
پچھلے تقریباً ۱۵ سالوں کے دوران جموئی میں تیزی سے بڑھتے بیوٹی بزنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پرمیلا شرما کہتی ہیں، ’’میں نے جب یہ کام شروع کیا تھا تب یہاں پر صرف ۱۰ پارلر تھے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔‘‘
پرمیلا، جموئی شہر کے مین روڈ پر واقع ’وواہ لیڈیز بیوٹی پارلر‘ کی مالکن ہیں۔ اس شہر کی آبادی ۸۷۳۵۷ ہے، اور یہاں کے زیادہ تر لوگ زراعت اور اس سے جڑے دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔














