جام نگر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ۱۹۸۰ کی دہائی سے ہی صنعت کاری کا کام چل رہا ہے۔ ریتوجا بتاتے ہیں، ’’ان علاقوں میں نمک کی صنعت، تیل سے چلنے والی جیٹی (چھوٹی کشتیوں)، اور دیگر صنعت کاریوں کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کاروبار میں آسانی کے لیے، زمین کو اپنے استعمال کے حساب سے بدلواتے وقت انہیں بہت کم دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے! لیکن بات جب گلہ بانوں کے پیشہ کو برقرار رکھنے کی آتی ہے، تو وہی محکمہ محافظ بن جاتا ہے۔ جو کہ، اتفاق سے، آئین کی دفعہ ۱۹ (جی) کے برخلاف ہے، جس میں ’کسی بھی پیشہ کو اپنانے، یا کسی بھی پیشہ کو چلانے، تجارت یا کاروبار کرنے‘ کی گارنٹی دی گئی ہے۔
چونکہ میرین (سمندری) پارک کے اندر جانوروں کو چرانے پر پابندی ہے، اس لیے اونٹوں کے گلہ بانوں کو اکثر محکمہ جنگلات کی طرف سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے متاثر ہونے والے مال دھاریوں میں سے ایک آدم جاٹ بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’چند سال پہلے، محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے یہاں اونٹ چرانے کی وجہ سے مجھے حراست میں لے لیا تھا، تب مجھے ۲۰ ہزار روپے کا جرمانہ بھرنا پڑا تھا۔‘‘ یہاں کے دیگر گلہ بانوں نے بھی ہمیں اسی قسم کی باتیں بتائیں۔
ریتوجا مترا کہتی ہیں، ’’مرکزی حکومت کے ذریعے لایا گیا ۲۰۰۶ کا قانون اب بھی کسی کام کا نہیں ہے۔‘‘ حقوق جنگلات قانون ۲۰۰۶ کا سیکشن ۳(۱)(ڈی)، خانہ بدوش یا چرواہا برادریوں کو جنگلات کا استعمال کرنے اور اپنے جانوروں کو چرانے (چاہے وہ مقامی باشندے ہوں یا گھومنے پھرنے والے) اور روایتی موسمیاتی وسائل تک رسائی حاصل کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔
لیکن، بقول ریتوجا، ’’باوجود اس کے، اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے مال دھاریوں کو فاریسٹ گارڈ کے ذریعے ہمیشہ سزا دی جاتی ہے، اور پکڑے جانے پر ان سے ۲۰ ہزار روپے سے لے کر ۶۰ ہزار روپے تک کا جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایف آر اے کے تحت کاغذ پر جتنے بھی تحفظاتی اقدامات کا ذکر ہے، وہ کسی کام کے نہیں ہیں۔
یہاں کئی نسلوں سے رہتے چلے آ رہے اور اس پیچیدہ علاقے کے بارے میں دوسروں سے کہیں بہتر جانکاری رکھنے والے ان گلہ بانوں کو شامل کیے بغیر آبی پیڑ پودوں والے علاقوں کو بڑھانے کی کوشش بیکار ہے۔ جگا بھائی رباری کہتے ہیں، ’’ہم اس علاقے کو سمجھتے ہیں، یہاں کے ماحولیاتی نظام کو سمجھتے ہیں، اور ہم حیاتیاتی انواع، آبی پیڑ پودوں کو بچانے کے لیے حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی پالیسیوں کے بھی خلاف نہیں ہیں۔ ہماری تو بس ایک چھوٹی سی درخواست ہے: اور وہ یہ ہے کہ کوئی بھی پالیسی بنانے سے پہلے ہماری بات بھی سنی جائے۔ ورنہ اس علاقے کے آس پاس رہنے والے تقریباً ۱۲۰۰ لوگوں، اور ان تمام اونٹوں کی بھی زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘‘