’’بارش ایک بار پھر رک گئی ہے،‘‘ دھرما گریل نے بانس کی لاٹھی کے سہارے اپنے کھیت کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ ’’جون ایک عجیب مہینہ بن گیا ہے۔ ۲-۳ گھنٹے تک بارش ہوگی۔ کبھی ہلکی، کبھی بھاری بوچھار۔ لیکن اگلے کچھ گھنٹوں میں ایک بار پھر ناقابل برداشت گرمی ہو جائے گی۔ زمین کی پوری نمی کو جذب کرتے ہوئے۔ اس کے بعد مٹی دوبارہ خشک ہو جاتی ہے۔ ایسے میں پودے کیسے اگیں گے؟‘‘
اسّی سال کے گریل اور ان کی فیملی، تھانے ضلع کے شہاپور تعلقہ میں ۱۵ وارلی کنبوں کی آدیواسی بستی، گریل پاڑہ میں اپنے ایک ایکڑ کھیت میں دھان کی کھیتی کرتے ہیں۔ جون ۲۰۱۹ میں، انہوں نے جو دھان کی فصل بوئی تھی، وہ پوری طرح سوکھ گئی۔ اس مہینے، ۱۱ دنوں میں صرف ۳۹۳ ملی میٹر بارش ہوئی (اوسطاً ۴۲۱ اعشاریہ ۹ ملی میٹر سے بھی کم)۔
انہوں نے جو دھان لگایا تھا، وہ پھوٹا بھی نہیں – اور انہوں نے بیج، کھاد، کرایے کے ٹریکٹر اور کھیتی کی دیگر لاگت پر جو ۱۰ ہزار روپے خرچ کیے تھے، سب کا نقصان ہو گیا۔
’’اگست میں جاکر باقاعدہ بارش ہوئی، جس کے بعد زمین ٹھنڈی ہونے لگی۔ مجھے یقین تھا کہ دوسری بوائی کا خطرہ مول لینے پر، ہمیں فصل ضرور ملے گی، کچھ فائدہ ہوگا،‘‘ دھرما کے بیٹے، ۳۸ سالہ راجو نے کہا۔
اس کے بعد جون میں بارش بالکل بھی نہیں ہوئی، پھر جولائی میں ۹۴۷ اعشاریہ ۳ ملی میٹر کی معمول کے مطابق بارش کے مقابلے تعلقہ میں ۱۵۸۶ اعشاریہ ۸ ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ اس لیے گریل فیملی دوسری بوائی سے امید لگائے ہوئی تھی۔ لیکن اگست میں بارش بہت تیز ہونے لگی – اور اکتوبر تک جاری رہی۔ تھانے ضلع کے سبھی سات تعلقوں میں ۱۱۶ دنوں میں ۱۲۰۰ ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی۔
’’پودوں کے بڑھنے کے لیے ستمبر تک معقول بارش ہوئی تھی۔ پیٹ بھر جانے کے بعد ہم انسان بھی نہیں کھاتے، پھر چھوٹے پودے کیسے کھائیں گے؟‘‘ راجو کہتے ہیں۔ اکتوبر کی بارش سے گریل فیملی کا کھیت پانی سے بھر گیا تھا۔ ’’ہم نے ستمبر کے آخری ہفتہ میں دھان کاٹنا اور اس کا گٹھر بنانا شروع کر دیا تھا،‘‘ راجو کی بیوی، ۳۵ سالہ سویتا یادو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں، جو کہ خود بھی ایک کسان ہیں۔ ’’ہمیں ابھی بھی باقی فصل کاٹنی تھی۔ ۵ اکتوبر کے بعد اچانک بھاری بارش ہونے لگی۔ ہم نے اکٹھا کرکے رکھی گئی فصل کو گھر کے اندر لانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن کچھ ہی منٹوں میں، ہمارے کھیت میں پانی بھر گیا...‘‘
اگست کی اُس دوسری بوائی سے، گریل فیملی ۳ کوئنٹل چاول حاصل کرنے میں کامیاب رہی – جب کہ پہلے وہ ایک ہی بوائی سے، تقریباً ۸-۹ کوئنٹل فصل حاصل کر لیتے تھے۔












